
کویت سٹی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)خلیجی ممالک کا مقامی افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کےلیے نئے قوانین نافذ کیا جارہے ہیں اسکا اثر کویت میں بھی دیکھا جارہا ہے۔ کویت تارکین وطن کے لیے نئے قوانین نافذ کرنے جارہا ہے۔ یہ تارکین وطن کو سرکاری اور نجی ملازمتوں سے ہٹا رہا ہے، متعدد پابندیوں پر عمل درآمد کر رہا ہے اور تارکین وطن کو ختم کرنے اور ان کے مقامی باشندوں کے لئے ملازمتیں پیدا کرنے کے ارادے سے نئے قوانین سامنے لا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کویت ایک نئے قانون پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے اور اگر اس قانون پر عمل درآمد ہوتا ہے تو کسی کا کویت جانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہوگا اگر کوئی ایک کمپنی کویت میں ملازمت کی پیشکش کے لیے آگے آتی ہے ایسی کپمنی کے لیے بیرون ملک سے ملازمین لینا مہنگا پڑسکتا ہے۔
اس قانون میں کس طرح کے قواعد ہونے والے ہیں؟
اس قانون سے نجی اور سرکاری شعبوں میں تارکین وطن کا اثر و رسوخ کم ہونے والا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اب کوئی بھی بیرون ملک سے کویت میں داخل نہ ہو سکے۔ اگر کوئی غیر قانونی طور پر کویت میں داخل ہوتا ہے یا ایسے کسی شخص کی خدمات حاصل کرتا ہے تو کمپنی یا شخص پر 13 لاکھ سے ایک کروڑ روپے کے درمیان جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ قانون کے مطابق تارکین وطن کی خدمات حاصل کرنے کا ارادہ رکھنے والی کمپنیوں کو فی ورکر ایک لاکھ روپے سے زائد رقم جمع کروانی ہوگی اور انہیں کمپنی لائف انشورنس بھی فراہم کرنی ہوگی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے ضوابط نافذ کیے جاتے ہیں تو ایک بھی کمپنی تارکین وطن کی خدمات حاصل نہیں کر سکے گی، ہندوستانی تارکین وطن پر اس کا اثر سب سے زیادہ ہوگا کیونکہ ہندوستانیوں کی تعداد کویت میں کئی پیشوں سے جڑے ہیں امکان غالب ہے کے آنے والے دنوں میں سب کو ملازمتوں سے بے دخل کیا جائے گا۔



