معین آباد دوہرا قتل معاملہ: مرکزی ملزمہ کریمہ بی علاج کے دوران انتقال کر گئی
دوہرا قتل معاملے کی مرکزی ملزمہ کریمہ بی علاج کے دوران دم توڑ گئی
حیدرآباد 11 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)معین آباد دوہرا قتل معاملے کی مرکزی ملزمہ 42 سالہ کریمہ بی کا بدھ کی رات حیدرآباد کے نظامس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں علاج کے دوران انتقال ہو گیا۔ حکام کے مطابق وہ گزشتہ 24 دنوں سے اسپتال میں زیر علاج تھیں اور ان کی حالت مسلسل تشویشناک بنی ہوئی تھی۔
پولیس کے مطابق کریمہ بی نے مبینہ طور پر پولیس تحویل کے دوران خودکشی کی کوشش کی تھی، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد محکمہ جاتی جانچ شروع کی گئی تھی اور جانچ کے نتیجے میں دو کانسٹبلوں کو معطل کر دیا گیا تھا۔
کریمہ بی کے انتقال کے بعد وقارآباد ضلع کے تانڈور میں واقع ان کی رہائش گاہ کے اطراف احتیاطی اقدامات کے طور پر اضافی پولیس نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
معین آباد دوہرا قتل معاملہ اپنی نوعیت کے باعث ریاست بھر میں موضوع بحث بنا ہوا تھا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ ملزمہ کے انتقال کے بعد ضروری قانونی کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں۔
پولیس کے مطابق کریمہ بی پر رواں سال دو معمر خواتین کے قتل کا الزام تھا۔ مقتولہ عابدہ بیگم، جن کی عمر 65 سال تھی، آنگن واڑی کارکن تھیں اور بشیرآباد منڈل کے قاسم پور گاؤں کی رہائشی تھیں۔ ان کے لاپتہ ہونے کی شکایت ان کے بیٹے نے 12 مئی کو تانڈور پولیس میں درج کرائی تھی۔
تفتیش کے مطابق تانڈور کے اندراما کالونی کی رہائشی کریمہ بی نے مبینہ طور پر اپنے شوہر رحمان اور ایک فارم ہاؤس کے سکیورٹی گارڈ کے ساتھ مل کر عابدہ بیگم کو 30 ہزار روپے نقد رقم کے بہانے سنسان علاقے میں بلایا، انہیں قتل کیا، ان کے تین سونے کے سکے لوٹ لیے اور بعد ازاں لاش کو دفن کر دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دوسری مقتولہ 62 سالہ محبوبی تھیں، جنہیں مبینہ طور پر مارچ میں قتل کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ ان کے ڈھائی تولہ سونے کے زیورات ہتھیانے کی غرض سے انہیں بھی قتل کر کے فارم ہاؤس کے قریب دفن کر دیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ میں ملزمہ نے دونوں خواتین کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ پولیس اب اس پہلو سے بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اس نوعیت کے مزید جرائم میں بھی ملزمان ملوث رہے ہیں یا نہیں۔



