کیلی فورنیا ،2اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکی ریاست نیویارک کے بعد کیلیفورنیا نے بھی منکی پاکس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام کو امید ہے کہ اس سے بیماری کے پھیلاؤ سے نمٹنے کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے پیر کے روز منکی پاکس کی بیماری پھیلنے کے حوالے سے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر دیا۔ چند روز قبل سب سے پہلے نیویارک نے اس وبا سے نمٹنے کے لیے ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا اور اب ایسا کرنے والی کیلیفورنیا امریکہ کی دوسری ریاست بن گئی ہے۔
بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز کے مطابق یکم اگست پیر تک کیلیفورنیا میں منکی پاکس کے 827 انفیکشن درج کیے گئے، جو نیویارک میں 1,390 کیسز کے بعد امریکہ میں دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ریاست کے گورنر گیون نیوزوم نے کہا کہ ایمرجنسی کے اعلان سے ملک کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کو مزید ویکسین جمع کرنے اور بیماری نیز اس کے علاج کے بارے میں مزید معلومات کی تشہیر کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے اس کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ہم مزید ویکسینز کو محفوظ بنانے، خطرے کو کم کرنے کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور بدنامی کے خلاف لڑنے والی ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر اپنا کام جاری رکھیں گے۔
ایمرجنسی کا اعلان ہنگامی طبی عملے کو منکی پاکس کے ایسے ویکسین لگانے کی اجازت دیتا ہے جو وفاقی حکومت سے منظور شدہ ہوں۔ اس حوالے سے ایک حالیہ قانون کے تحت فارماسسٹ کو بھی اس کے ویکسین کا انتظام کرنے کی اجازت ہے۔گزشتہ ماہ 23 جولائی کو عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے منکی پاکس کو عالمی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا تھا۔ عالمی ادارہ جب کسی بھی وبا یا بیماری کو ایمرجنسی قرار دیتا ہے تو اس کا مطلب اس بیماری سے متعلق اعلیٰ ترین الرٹ ہوتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے مئی کے آغاز سے اب تک تقریباً 78 ممالک میں 20,000 سے زیادہ منکی پاکس کے کیسز رپورٹ کیے ہیں۔ یہ بیماری کئی دہائیوں سے افریقہ کے بعض حصوں میں پائی جاتی تھی، لیکن حال ہی میں یورپ اور شمالی امریکہ کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی پھیل گئی ہے۔منکی پوکس سے متاثرہ شخض کی موت شاذ و نادر ہی ہوتی ہے، تاہم بھارت اور پیرو نے پیر یکم اگست کو اس سے متاثرہ دو افراد کی موت کی اطلاع دی۔
گزشتہ ہفتے اسپین میں بھی اس سے دو اموات کی اطلاع ملی تھی، جبکہ اس سے بھی قبل برازیل میں بھی ایک موت ریکارڈ کی گئی تھی۔یہ بیماری قریبی جسمانی رابطے سے پھیلتی ہے۔ اب تک اس بیماری سے زیادہ تر وہ مرد متاثر پائے گئے ہیں، جو مردوں کے ساتھ ہی جنسی تعلق رکھتے ہیں، یعنی ہم جنس پرستوں میں۔تاہم ماہرین صحت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کوئی بھی اس کے وائرس کا شکار ہو سکتا ہے اور یہ تولیہ اور بستر کے اشتراک کے ساتھ ہی جلد سے جلد کے طویل رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے۔اس وبا کی وجہ سے ایل جی بی ٹی کیو کے لیے کام کرنے والے کارکنان نے حکام کو بحران سے نمٹنے اور عوام کو آگاہ کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنے کو کہا ہے۔



