بین الاقوامی خبریں

امریکہ کی صدر پوتن کی ’گرل فرینڈ‘ سمیت دیگر شخصیات پر نئی پابندیاں

نیویارک، 3اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یوکرین پر حملے کے بعد پابندیوں کے نئے مرحلے میں امریکہ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی مبینہ گرل فرینڈ Alina Kabaeva اور لندن میں دوسری سب سے بڑی اسٹیٹ کے مالک کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی کاروباری پابندیوں کی زد میں کئی دوسری اہم روسی شخصیات بھی آئی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ صدر کے پوتن کے قریب ہیں۔امریکہ نے اْن شخصیات پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جن کو روس نے یوکرین میں مقبوضہ علاقوں کے انتظام کے لیے عہدیدار نامزد کیا تھا۔اس کے علاوہ تقریباً روس کے متعدد ہائی ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ، کمپنیوں اور الیکٹرانکس کے ادارے بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آئے ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ نے صدر پوتن کے ساتھی اور ارب پتی آندرے گریگوریویچ گوریف پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے جو بکنگھم پیلس کے بعد لندن میں دوسری سب سے بڑی اسٹیٹ وٹان ہارسٹ کے مالک ہیں۔گوریف دنیا بھر میں کھاد کے سب سے بڑے سپلائر فاس ایگرو کے بانی اور سابق ڈپٹی چیئرمین ہیں۔امریکی پابندیوں کے بعد اب گوریف اور ان کے بیٹے کے امریکی بینکوں میں موجود اثاثے ضبط ہو جائیں گے اور ان کے ساتھ کاروباری تعلقات رکھنے والی کمپنیوں اور افراد کو بھی امریکی بینکوں سے لین دین میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکہ نے گوریف کی کیریبین میں موجود 81 میٹر یاٹ الفا نیرو کو بھی بلیک لسٹ کر دیا، جس سے اس کے ضبط کیے جانے کا خطرہ ہے۔ تاہم امریکہ نے کہا کہ الفا نیرو نے ضبط کیے جانے سے بچنے کے لیے مبینہ طور پر اپنا لوکیشن ٹریکنگ ہارڈویئر بند کر دیا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ نے پوتن کی گرل فرینڈ سمجھی جانے والی سابق اولمپک جمناسٹ الینا کبایوا اور روسی حکومت کے بڑے خودمختار فنڈ کے مینیجر کیرل دمتریف کی اہلیہ نتالیہ پوپووا پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔

محکمہ خزانہ نے کے مطابق پوپووا ٹیکنالوجی فرم ’انوپریکتیکا‘ کے لیے کام کرتی ہیں، جسے پوتن کی بیٹیوں میں سے ایک چلاتی ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کی سیکریٹری جینٹ ییلن نے ایک بیان میں کہا کہ ’روس کی جارحیت اور غیر قانونی جنگ کا شکار بے گناہ لوگ بن رہے ہیں جبکہ پوتن کے ساتھیوں نے خود کو مالا مال کیا ہے اور خوشحال طرز زندگی کے لیے دولت اکھٹی کر رہے ہیں۔ییلن  نے کہا کہ ’محکمہ خزانہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ روسی اشرافیہ اور کریملن کے اہل کاروں کو اس جنگ میں ان کی شراکت کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے جس میں لاتعداد جانیں ضائع ہوئیں ہر ممکن کوشش کرے گا۔


روس کا امریکہ پریوکرین جنگ میں براہِ راست کردار ادا کرنے کا الزام

روس نے امریکہ پریوکرین جنگ میں براہ راست ملوّث ہونے کا الزام عاید کیاہے جبکہ واشنگٹن نے اس الزام کی تردید کی ہے۔روسی وزارت دفاع کے ترجمان میجرجنرل ایگور کوناشینکوف نے کہا کہ یوکرین کے فوجی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ نے ٹیلی گراف کودیئے گئے انٹرویو میں راکٹ حملوں میں امریکا کے کردار کا ذکر کیا ہے اور یہ امریکا اور یوکرین میں ہم آہنگی کا واضح ثبوت ہیں۔یوکرینی عہدہ دار واڈیم سکیبتسکی نے دا ٹیلی گراف کیف کو بتایا کہ انھوں نے سیٹ لائٹ تصاویر اور واشنگٹن کی جانب سے فراہم کردہ حقیقی وقت کی معلومات کی بنیاد پرہیمارس راکٹ لانچ سسٹم کا استعمال کیا ہے۔

سکیبتسکی نے کہا کہ روسی فوج پرحملوں سے قبل امریکی اور یوکرینی انٹیلی جنس افسروں کے درمیان مشاورت ہوئی تھی اور امریکا کو ہدف کے انتخاب پرویٹواختیار حاصل تھا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ امریکی حکام نے براہ راست نشانہ بنانے کی معلومات فراہم نہیں کیں۔روس کے سرکاری خبررساں ادارے تاس کے مطابق کوناشینکوف نے کہا کہ یوکرین میں ہیمارس کے لانچ راکٹ سسٹم (ایم ایل آر ایس) کے متعدد حملوں سے قبل ہرہدف پر واشنگٹن کا سمجھوتا ثابت کرتا ہے کہ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے بیانات کے باوجود امریکا براہ راست اس تنازع میں ملوّث ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ سب کچھ ناقابل تردید طور پریہ بات ثابت کرتا ہے کہ واشنگٹن وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے بیانات کے برعکس یوکرین میں تنازع میں براہ راست ملوث ہے۔واشنگٹن نے بار بار یہ بات زوردے کرکہی ہے کہ اس کا کردار کیف کو ہتھیارمہیا کرنے تک محدود تھا اور وہ اس جنگ میں براہ راست ملوّث نہیں ہونا چاہتا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button