نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسنڈا آرڈرن کا عہدے سے الگ ہونے کا اعلان
نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن نے وزارت عظمیٰ سے دستبردای کے بعد شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ویلنگ ٹن، 17جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن نے آئندہ ماہ عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔جیسنڈرا آرڈرن نے جمعرات کو نیپئر شہر میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ وہ سات فروری کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے الگ ہو جائیں گی۔جیسنڈا کے اعلان کے وقت ان کی آنکھیں نم اور آواز بھرائی ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تیسری مدت کے لیے وزارتِ عظمیٰ کی ذمے داری سنبھالنے کے لیے خود کو تیار محسوس نہیں کرتیں۔ ان کی جماعت کے ارکان آئندہ تین روز میں پارٹی کے نئے سربراہ کا انتخاب کریں گے اور وہ سات فروری کو اپنا عہدہ چھوڑ دیں گی۔
نیوزی لینڈ میں رواں برس اکتوبر میں عام انتخابات ہونا ہیں اور انتخابات سے قبل وزارتِ عظمیٰ سے الگ ہونے کے ان کے اعلان پر حیرانی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔جیسنڈا نے کہا کہ یہ میرا یقین ہے کہ ملک کی قیادت کرنا کسی بھی شخص کے لیے اعزاز کی بات ہے لیکن اسی کے ساتھ یہ ایک بڑی ذمے داری بھی ہے۔نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ بحیثیت وزیر اعظم ساڑھے پانچ سال کا عرصہ ان کی زندگی کے اہم سال تھے اور وہ اس عہدے سے اس لیے سبکدوش ہو رہی ہیں کہ کیوں کہ ایک وزیرِ اعظم پر بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔جیسنڈرا آرڈرن نے 2017 میں محض 37 برس کی عمر میں نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم منتخب ہو کر دنیا کی کم عمر ترین خاتون سربراہِ مملکت ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ آرڈن اپنی صلاحیتوں اور کارکردگی کی بدولت 2020 میں دوبارہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے منتخب ہوئی تھیں۔آرڈرن نے وزارتِ عظمیٰ کے برسوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ میری زندگی کے سب سے زیادہ پورے ساڑھے پانچ سال رہے ہیں۔
میں اس لیے جا رہی ہوں کیوں کہ اس طرح کی مراعات یافتہ ملازمت کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری آتی ہے۔آرڈرن نے کہا کہ انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے فیصلے سے متعلق اپنی جماعت کے ارکان کو آگاہ کر دیا تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے الگ ہو رہی ہیں لیکن وہ اپریل تک پارلیمنٹ کی رکن رہیں گی تاکہ ان کی نشست پر ضمنی انتخاب کی ضرورت پیش نہ آئے۔واضح رہے کہ 14 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل جیسنڈرا آرڈرن کی لیبر پارٹی کو سابق ایوی ایشن ایگزیکٹو کرسٹوفر لکسن کی جماعت نیشنل پارٹی کا چیلنج درپیش ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق گزشتہ برس دسمبر تک لیبر پارٹی کو 33 فی صد عوام کی حمایت حاصل تھی جس کے مقابلے میں نیشنل پارٹی کے پاس 38 فی صد عوامی حمایت تھی۔گزشتہ ماہ نیشنل پارٹی کے سربراہ نے جیسنڈرا آرڈرن پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیوزی لینڈ کے عوام محسوس کر رہے ہیں کہ ملک غلط سمت جا رہا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ حکومت کچھ کام نہیں کر رہی۔مارچ 2019 میں سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد وزیرِ اعظم جیسنڈرا آرڈرن کے بروقت فیصلوں اور متاثرہ مسلم کمیونٹی سے اظہارِ یکجہتی کے ان کے انداز نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی تھی جہاں انہیں خوب سراہا گیا۔اس سانحے میں ایک شخص نے دو مساجد میں گھس کر 51 افراد کو اس وقت ہلاک کر دیا تھا جب مساجد میں جمعے کی نماز کی تیاری کی جا رہی تھی۔اس سانحے کے بعد وزیر اعظم آرڈرن نے ملک میں آٹومیٹک گنز پر پابندی عائد کر دی تھی۔کرونا وبا کے دور میں مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سرحدیں بند کر کے سخت پابندیوں کے نفاذ جیسے فیصلوں کے نتائج نے بھی جیسنڈرا آرڈرن کی مقبولیت میں اضافہ کیا تھا۔جیسنڈرا پہلی خاتون وزیرِ اعظم تھیں جنہوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنی کمسن بچی کے ساتھ شرکت کی۔
جیسنڈا آرڈرن کا وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کے بعد شادی کرنے کا فیصلہ
سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر شیئر کی گئی ایک طویل پوسٹ میں جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ میں نیوزی لینڈ کے لیے کام کرتی رہوں گی لیکن اب میں اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی ہوں۔
انہوں نے وزارت عظمیٰ سے دستبرداری کے بعد اپنی بیٹی کو وقت دینا کا فیصلہ کیا ہے ساتھ ہی اپنے منگیتر کلارک سے شادی کا ارادہ رکھتی ہیں۔جیسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ میری فیملی ہی ہے جس نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال میری بیٹی کا اسکول شروع ہونے والا ہے، اور اب میں اس کے ساتھ ہوں گی۔
واضح رہے کہ جیسنڈا نے مئی 2019 میں ریڈیو سے تعلق رکھنے والے کلارک نامی شخص سے منگنی کی تھی ، ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔جیسنڈا آرڈرن اور کلارک گیفولڈ کی ملاقات 9سال قبل اُس وقت ہوئی تھی، جب کلارک پارلیمان میں کسی قانونی تبدیلی کے حوالے سے اپنی شکایت درج کروانے آئے تھے، کلارک گیفولڈ ریڈیو پر ایک شو کے میزبان ہیں۔
اس اچانک ملاقات کے بعد اُس وقت لیبر پارٹی کی ابھرتی ہوئی سیاست دان جیسنڈا اور کلارک نے کچھ کافی وغیرہ پی اور جلد ہی انہوں نے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جیسنڈا آرڈرن کو دنیا کی سب سے کم عمر خاتون حکمران کا اعزاز حاصل ہے، وہ 2017 میں 37 سال کی عمر میں وزیراعظم منتخب ہوئی تھیں۔اپنے دور حکومت میں جیسینڈا آرڈرن نے 2019 سے شروع ہونے والی عالمی وبا کورونا وائرس کے دوران نیوزی لینڈ کی قیادت کی۔اس کے علاوہ جیسنڈا آرڈرن کو کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر دہشت گرد حملے اور آتش فشاں پھٹنے سمیت بڑی آفات کا سامنا رہا۔



