
ہند-پاک سرحد سے متصل مساجد، مدارس اور درگاہوں پر کارروائی کے خلاف عرضیاں خارج، راجستھان ہائی کورٹ نے مداخلت سے انکار کر دیا
عدالت نے معاملے کو قومی سلامتی سے جوڑا، سرحدی علاقوں کی عمارتوں کے جائزے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت
جے پور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) راجستھان ہائی کورٹ نے ہند-پاک بین الاقوامی سرحد سے 50 کلومیٹر کے دائرے میں واقع مساجد، مدارس اور درگاہوں کے خلاف مجوزہ انہدامی کارروائی کو چیلنج کرنے والی تمام عرضیاں مسترد کر دی ہیں۔ عدالت نے حکومت کی کارروائی پر عبوری روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ مذہبی امتیاز کا نہیں بلکہ قومی سلامتی اور قانونی ضابطوں کی پابندی سے متعلق ہے۔
جسٹس سمیر جین نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد سے بادی النظر میں ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ مذہبی ڈھانچے راجستھان مذہبی عمارتیں و مقامات ایکٹ کے تحت درکار اجازت حاصل کیے بغیر تعمیر کیے گئے تھے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ نوٹس صرف کسی ایک مذہبی طبقے کو نہیں بلکہ سرحدی علاقے میں موجود تمام غیر مجاز تعمیرات کے سلسلے میں جاری کیے گئے ہیں، اس لیے کارروائی کو فرقہ وارانہ رنگ دینا حقائق کے منافی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ زمین کی ملکیت، قبضے، استعمال اور عنوان (Title) سے متعلق سوالات متنازع ہیں، جن کا فیصلہ آئینی درخواست (رٹ پٹیشن) کے دائرہ اختیار میں نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے متعلقہ قانونی فورم سے رجوع کرنا ہوگا۔
ہائی کورٹ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ درخواست گزاروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے، لیکن انہوں نے متعلقہ حکام کے سامنے اپنا جواب پیش کرنے کے بجائے براہ راست عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت کے مطابق جب درخواست گزار خود قانونی کارروائی کا حصہ نہیں بنے تو وہ بعد میں فطری انصاف کی خلاف ورزی کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
فیصلے میں عدالت نے زور دے کر کہا کہ جب ریاست کی سلامتی کا معاملہ درپیش ہو تو فطری انصاف کے روایتی اصولوں پر ہر صورت سختی سے عمل کرنا لازمی نہیں ہوتا۔ ایسے معاملات میں حالات کے مطابق عملی اور حقیقت پسندانہ طریقۂ کار اختیار کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ کارروائی کے لیے مناسب مواد اور قانونی بنیاد موجود ہو۔
قومی سلامتی کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ضلع کلکٹر، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ایک نمائندے پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت بھی دی۔ عدالت نے کہا کہ یہ کمیٹی سرحدی علاقوں میں واقع حساس املاک کا جائزہ لے گی اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ضرورت پڑنے پر بے دخلی، قبضہ ختم کرنے، انہدام یا دیگر مناسب اقدامات کا حکم دے سکے گی۔
یہ درخواستیں پیر محمد شاہ جیلانی درگاہ سمیتی سمیت دیگر درخواست گزاروں کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جن میں جیسلمیر، باڑمیر اور بیکانیر اضلاع میں سرحد سے 50 کلومیٹر کے دائرے میں واقع مذہبی مقامات کو جاری نوٹس کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل وکاس بالیا پیش ہوئے، جبکہ ریاستی حکومت کی نمائندگی ایڈووکیٹ جنرل راجیندر پرساد اور مرکزی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل بھارت ویاس نے کی۔
عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ موجودہ حالات میں یہ عرضیاں قابل سماعت نہیں ہیں، لہٰذا انہیں مسترد کیا جاتا ہے۔



