بین الاقوامی خبریں

عصمت دری اور ہراسیت: جیلوں میں ایرانی خواتین دونوں کا شکار

ایرانی حکام بعض اوقات خواتین کی عصمت دری کی فلمیں بناتے ہیں اور خواتین مظاہرین نے انہیں خاموش رہنے پر مجبور کیا

Rape and harassment واشنگٹن، 19 دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکہ کی جانب سے ایرانی حکومت کی جانب سے اپنے عوام کیخلاف سنگین جرائم خاص طور پر حالیہ مہینوں میں جاری احتجاجی تحریک کے دوران ان جرائم میں اضافے پر ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جیلوں میں قید ایرانی خواتین عصمت دری اور ہراسیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔حجاب کے نفاذ کیلئے ایرانی حکومت کا جیلوں میں خواتین کو ہراسا ں کرناکے عنوان سے جاری رپورٹ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے شائع کی۔ رپورٹ میں ایرانی خواتین قیدیوں کے خلاف جنسی زیادتی کے واقعات کا انکشاف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی حکومت کے اہلکار خواتین قیدیوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکتیں کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک 20 سالہ خاتون کو احتجاج کی قیادت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور پھر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ پھر خون بہہ جانے کی وجہ سے اسے کرج کے ایک ہسپتال میں منتقل کیا گیا تھا۔ پھر اسے دوبارہ جیل میں بند کر دیا گیا۔رپورٹ میں ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی دستاویز کی موجودگی کی بھی بطور ثبوت نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ دستاویز ایران میں خواتین مظاہرین کے خلاف ہراساں کیے جانے اور عصمت دری کے واقعات کی تصدیق کرتی ہیں۔

دوسری جانب ایرانی انسانی حقوق کی مہم کے ڈائریکٹر ہادی غیمی نے وضاحت کی ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے تہران میں معصومہ نامی ایک 14 سالہ لڑکی کو سکول میں نقاب اتارنے پر گرفتار کیا اور پھر اسے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس کی عصمت دری کرنے کے بعد اور اس کی موت سے پہلے شدید خون بہہ رہا تھا۔ اہلکار نے تصدیق کی کہ متاثرہ کی موت ہو گئی جبکہ اس کی ماں نے اپنی بیٹی کی کہانی سنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اب وہ غائب ہو گئی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی رپورٹ میں متاثرین کے شرم اور خوف کے جذبات کی وجہ سے ایرانی خواتین کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی تمام رپورٹس کی تصدیق کرنے میں دشواری کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ تاہم سی این این کی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام بعض اوقات خواتین کی عصمت دری کی فلمیں بناتے ہیں اور خواتین مظاہرین نے انہیں خاموش رہنے پر مجبور کیا۔یاد رہے حجاب نہ لینے پر ایرانی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں مہسا امینی کی گرفتاری اور پھر دوران حراست ہی 16 ستمبر کو موت کے بعد سے ایران میں احتجاجی تحریک برپا ہے۔

ایرانی حکمران پرتشدد طریقوں سے مظاہروں کو دبانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن احتجاجی مظاہرے اپنے چوتھے مہینے میں داخل ہوچکے ہیں۔ سینکڑوں مظاہرین کو قتل کیا جا چکا، ہزاروں کو گرفتار یا ان کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔ اب تک دو احتجاجی کارکنوں کو پھانسی بھی دی جا چکی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے ایرانی حکومت کے پر تشدد ہتھکنڈوں کی شدید مذمت بھی جاری ہے تاہم اس کا زیادہ فائدہ ہوتا نظر نہیں آرہا۔

پابندی ختم ہونے کے بعد چین میں کورونا سے دو نئی ہلاکت کی تصدیق

بیجنگ، 19 دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) چین نے کورونا سے متعلق پابندیاں اٹھانے کے چند ہفتوں بعد ہی وبا سے ہونے والی نئی اموات کی تصدیق کی ہے جس کے بعد کورونا کے دوبارہ ابھرنے پر نئی تشویش پائی جا رہی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کے روز چین نے سرکاری سطح پر کورونا کے باعث ہونے والی دو اموات کی تصدیق کی۔خیال رہے کہ بیجنگ سمیت دیگر شہروں میں پابندیوں کے خلاف احتجاج کے بعد چین نے 3 دسمبر کو تمام پابندیاں ہٹا دی تھیں جس کے بعد کورونا کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔دوسری جانب روئٹرز سے منسلک صحافی نے بتایا کہ ’سنیچر کو جنازہ گاہ کے قریب تقریباً 20 لاشیں پڑی ہوئی دیکھی گئی تھیں تاہم یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ یہ اموات کورونا کے باعث ہوئی تھیں جبکہ کئی نعشوں کو کورونا سے ہونے والی اموات کے لیے مختص شمشان گھاٹ بھی لے کر جایا جا رہا تھا۔چین سرکاری سطح پر عالمی وبا کے دوران ہونے والی اموات کی تعداد 5 ہزار 237 بتاتا رہا ہے تاہم ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن (این ایچ سی) کے مطابق سنیچر کو کورونا متاثرین کی تعداد ایک ہزار 995 تھی جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 2 ہزار 97 تھی۔چین کے سرکاری اداروں کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ حقیقت میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے برعکس ہیں۔پیر کی صبح چین کی جانب سے کورونا سے ہونے والی دو اموات کی تصدیق کے فوری بعد ہی سماجی رابطوں کی مقامی ویب سائٹ ’ویبو‘ پر اس سے متعلق ہیش ٹیگ بن گئے جو ٹاپ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

امریکی طیارے میں ہچکولوں کے باعث 36 مسافر زخمی

نیویارک ، 19 دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکی حکام کے مطابق ’ریاست ہوائی میں شدید ٹربولینس (ہچکولوں) کے باعث ایک مسافر طیارے میں کم سے کم 36 مسافر زخمی ہو گئے ہیں۔ہوائی کے دارالحکومت ہونولولو کے ایمرجنسی میڈیکل سروسز نے تصدیق کی ہے کہ ’ہوائی ایئرلائنز کی فلائٹ کے 35 سے 36 مسافروں کو طبی امداد دی گئی جبکہ 20 کو ہسپتال پہنچایا گیا۔امریکی نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق ایمرجنسی میڈیکل سروسز کا کہنا ہے کہ ’20 میں سے 11 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔

یہ طیارہ فینکس سے ہونولولو جا رہا تھا جس میں 278 مسافر اور عملے کے 10 افراد سوار تھے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ’خراب موسم سے متعلق انتباہ جاری کیا گیا تھا۔ہوائی ایئرلائنز کے چیف آپریٹنگ آفیسر جون سنوک نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں اس نوعیت کا واقعہ پیش نہیں آیا، ہمیں اطمینان ہے اور ہم خوش قسمت ہیں کہ اس حادثے کے دوران کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا، کوئی جان سے نہیں گیا۔

ہمیں امید ہے کہ زخمی مسافر صحت یاب ہو جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ ’زخمی افراد میں عملے کے تین ارکان بھی شامل ہیں‘۔مسافر کیلی ریس نے بتایا کہ ان کی والدہ بھی طیارے میں سوار تھیں۔ہچکولوں کے دوران ان کی والدہ کا سر طیارے کی چھت سے جا ٹکرایا۔رواں برس خراب موسم کے باعث جہاز میں ٹربولینس کے متعدد واقعات سامنے آئے۔جولائی میں امریکن ایئرلائن کو ’غیر متوقع ٹربولینس‘ کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کے آٹھ مسافروں کو ہسپتال پہنچایا گیا تھا۔اسی طرح جون میں ساؤتھ ویسٹ ایئرلائن کو بھی ٹربولینس کا سامنا ہوا تھا۔ اس میں ایک مسافر سمیت عملے کے تین ارکان زخمی ہوئے تھے۔

تھائی لینڈ بحریہ کا جہاز سمندری طوفان میں پھنس کر ڈوب گیا؛31 اہلکار لاپتہ

بنکاک، 19 دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) تھائی لینڈ کے دارالحکومت میں 109 افراد کو لے جانے والے نیوی کا جہاز سمندی طوفان کے باعث ڈوب گیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تھائی لینڈ کی بحریہ کا جہاز اپنی حدود میں 20 سمندری ناٹیکل میل کے فاصلے پر ڈوب گیا۔ امدادی کاموں کے لیے 2 ہیلی کاپٹرز اور 4 کشتیاں بھیجی گئیں۔ریسکیو ٹیم نے 109 میں 78 افراد کو سمندر سے بحفاظت نکال لیا جن میں سے 4 کی حالت تشویشناک ہیں جنھیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔ تاحال 31 افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔موسم کی خرابی کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سرچ آپریشن کو چند گھنٹوں کے لیے روکنا بھی پڑا جس کے باعث 31 افراد کے زندہ مل جانے کی امیدیں دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔ترجمان تھائی بحریہ کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان کے کی وجہ سے تیز لہریں پیدا ہوئیں جن کے باعث جنگی جہاز کے انجن میں خرابی پیدا ہوگئی اور جہاز توازن برقرار نہ رکھ سکا تھا۔

افغانستان: سلنگ پاس پر آئل ٹینکر الٹنے سے آتشزدگی ، 12 افراد ہلاک

کابل، 19 دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) افغانستان کے سلنگ پاس پر ایک آئل ٹینکر الٹنے کے نتیجے میںآ گ لگنے سے کم از کم 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق وزارت تعمیرات عامہ کے ترجمان حمید اللہ مصباح نے بتایا کہ واقعے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 37 دیگر زخمی ہوئے ،جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔حمید اللہ نے کہا کہ سلنگ سرنگ میں ایک آئل ٹینکر الٹ گیا اور اس میں آگ لگ گئی، جس نے کئی دیگر گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔یہ واقعہ ہفتہ کو رات گئے پروان صوبے میں پیش آیا جس سے پہاڑی راستے کی دونوں جانب مسافر پھنس گئے۔پروان میں صحت کے ایک سینئر اہلکار عبداللہ افغان مل نے کہا کہ مرنے والوں میں بہت سی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جو بری طرح جھلس گئے تھے، انہوں نے کہا کہ مرنے والوں میں سے یہ پہچاننا بہت مشکل تھا کہ کون مرد تھا اور کون عورت۔

حکام نے بتایا کہ سلنگ پاس کو اب ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے کیونکہ ہیلی کاپٹروں میں ریسکیو ٹیمیں جائے وقوع پر تعینات ہیں۔سلنگ پاس دنیا کی بلند ترین پہاڑی شاہراہوں میں سے ایک ہے جس کی بلندی تقریباً 3 ہزار 650 میٹر ہے جسے سوویت دور کے ماہرین نے 1950 کی دہائی میں تعمیر کیا تھا اور اس میں 2.6 کلومیٹر لمبی سرنگ بھی شامل ہے، یہ راستہ ہندوکش پہاڑی سلسلے سے گزرتا ہے جو دارالحکومت کابل کو شمال سے ملاتا ہے۔

فلپائن: گھر میں آگ لگنے سے 7 افراد زندہ جل گئے

منیلا ، 19 دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) فلپائن میں ایک دو منزلہ گھر میں آتشزدگی سے 7 افراد ہلاک جبکہ 3 افراد ملبے تلے دبے ہیں۔ چینی خبررساں ادارے کے مطابق منیلا میں فائر فائٹر یوجین بریونس نے میڈیا کو بتایا کہ منٹینلوپا شہر میں مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے کے قریب ایک 2منزلہ گھر میں آگ لگنے کی اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 23منٹ میں آگ پر قابو پاتے ہوئے 7افراد کی جھلسی ہوئی نعشیں نکال کر قریبی ہسپتال منتقل کر دیں۔ انہوں نے ابتدائی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ آتشزدگی کے شکار گھر میں 10افراد پر مشتمل کنبہ رہائش پذیر تھا۔ ریسکیو اہلکار ملبے تلے دبے 3افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں کہ وہ گھر کے باہر تھے یا اندر ہی ہیں۔

کینیڈا: ٹورنٹو میں فائرنگ سے حملہ آور سمیت 6 افراد ہلاک

اوٹاوہ، 19 دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے نواحی علاقے میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں حملہ آور سمیت پانچ افراد ہلاک جبکہ ایک زخمی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مقامی پولیس چیف جم میک سوین کے حوالے سے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مشتبہ شخص بھی ہلاک ہو گیا ہے۔پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ٹورانٹو سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود وان نامی شہر کی ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ میں پیش آیا ہے۔واقعے میں زخمی ہونے والے شخص کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔

پولیس چیف جم میک سوین نے صحافیوں کو بتایا کہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو وہاں انتہائی خوفناک منظر تھا اور کئی افراد کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔پولیس کی جانب سے جاری تحقیقات میں معلوم کیا جا رہا ہے کہ کیا ملزم اور متاثرین کے آپس میں کسی قسم کا کوئی تعلق تھا۔ ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں مختلف اپارٹمنٹس میں موجود تھیں۔مقامی میڈیا کے مطابق عمارت کو خالی کرا دیا گیا ہے جبکہ پولیس اہلکاروں کے علاوہ متعدد ایمبولنس بھی موقع پر موجود تھیں۔امریکہ کے مقابلے میں ہمسایہ ملک کینیڈا میں فائرنگ کے واقعات کی تعداد انتہائی کم ہے تاہم گزشتہ کچھ عرصے میں اسلحے کے استعمال کے باعث ہونے والی ہلاکتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے بعد حکومت نے پستول اور چھوٹے ہتھیاروں پر پابندی کا قانون منظور کیا۔

اپریل 2020 میں کینیڈا کی مشرقی ریاست نووا سکوشیا میں شدید نوعیت کا فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں پولیس کی وردی میں ملبوس ایک شخص نے 22 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔رواں سال ستمبر میں کینیڈا کے ایک اور صوبے سسکیچواں میں ایک شخص نے 11 افراد کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ 18 کو چاقو مار کر زخمی کیا تھا۔کینیڈا میں پیش آنے والے جرائم میں سے اسلحے کے زور پر ہونے والے جرائم کی شرح تین فیصد سے کم ہے، لیکن سال 2009 سے فائرنگ کے واقعات میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button