تلنگانہ کی خبریں

وجئےپور: آر سی یو پی جی سینٹر میں ایم اے اردو کا شعبہ قائم، طلبہ سے داخلہ لینے کی اپیل

مقررین کی طلبہ سے ایم اے اردو میں داخلہ لینے کی اپیل۔

  وجئےپور: رانی چنما یونیورسٹی (RCU) کے پی جی سینٹر، وجئےپور میں ایم اے اردو کے شعبہ کے قیام اور طلبہ کے داخلوں کو یقینی بنانے کے مقصد سے ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں اردو زبان و ادب کی اہمیت، اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور روزگار کے مواقع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اجلاس کے مہمانِ خصوصی رفیع بھنڈاری، سینئر صحافی اور رکن سنڈیکیٹ، رانی چنما یونیورسٹی، بلگاوی نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیبی، ادبی اور ثقافتی وراثت کی امین ہے۔ انہوں نے طلبہ و طالبات سے اپیل کی کہ وہ ایم اے اردو میں داخلہ لے کر اپنے علمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کو روشن بنائیں۔

رفیع بھنڈاری نے کہا کہ اردو کے طلبہ تدریس، تحقیق، اردو جرنلزم، میڈیا، ڈی ٹی پی، تصنیف و تالیف اور دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی جی سینٹر میں اس سال شروع کیے گئے دیگر مضامین کے ساتھ ساتھ ایم اے اردو میں بھی زیادہ سے زیادہ داخلے ہونے چاہئیں تاکہ اس شعبہ کو مضبوط بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقامی ویمنس یونیورسٹی میں ایم اے اردو کا شعبہ پہلے سے موجود ہے، تاہم آر سی یو پی جی سینٹر میں اس شعبہ کا قیام خصوصاً طلبہ کے لیے ایک اہم موقع ہے، جبکہ شریکِ تعلیم نظام میں دلچسپی رکھنے والی طالبات کا بھی خیرمقدم کیا جائے گا۔

رفیع بھنڈاری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وجئےپور جیسے اردو اکثریتی علاقے میں کرناٹک اردو اکیڈمی کی سرگرمیاں نظر نہیں آ رہیں۔ انہوں نے اکیڈمی سے مطالبہ کیا کہ ایم اے اردو، پی ایچ ڈی اور تحقیقی سطح پر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و محققین کے لیے وظیفہ اور مالی معاونت فراہم کی جائے۔

اجلاس کی صدارت ڈاکٹر ایم اے جاگیردار، پرنسپل، انجمن ڈگری کالج نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے آر سی یو پی جی سینٹر میں ایم اے اردو کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے علاقے کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور تعلیم کو اپنی ترقی اور کامیابی کا ذریعہ بنائیں۔

ابتدا میں ڈاکٹر سید علیم اللہ حسینی، صدر شعبۂ اردو، نے تمام مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایم اے اردو کے شعبہ کے قیام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر اردو کے سماجی کارکن عبدالنبی جمعدار اور عشرت جہاں زیب نے بھی خطاب کرتے ہوئے اردو برادری سے اپیل کی کہ وہ اس نئے شعبہ کو مضبوط بنانے کے لیے متحد ہو کر تعاون کریں۔

اجلاس میں پروفیسر ایم اے پیرا، صدر شعبۂ ہندی، ڈاکٹر صدام مجاور سمیت متعدد معزز شخصیات نے شرکت کی۔

اجلاس کے اختتام پر طلبہ و طالبات سے اپیل کی گئی کہ وہ ایم اے اردو میں زیادہ سے زیادہ داخلے لے کر اس تعلیمی موقع سے بھرپور استفادہ کریں تاکہ وجئےپور اور اطراف کے علاقوں میں اردو زبان، ادب اور تحقیق کو مزید فروغ حاصل ہو۔

متعلقہ خبریں

Back to top button