بین الاقوامی خبریں

سعودی عرب سے ادھار تیل کی سہولت بحال: پاکستان کی معیشت پر کیا اثرات ہوں گے؟

اسلام آباد،23جون:(اردودنیا/ایجنسیاں)پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری کے اشاروں کے بعد ریاض نے پاکستان کو ادھار تیل کی فراہمی کی سہولت بحال کردی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے سعودی عرب سے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کے ادھار تیل کی سہولت دوبارہ دست یاب ہونے کی تصدیق کردی ہے۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ادھار پرتیل حاصل ہونے سے پاکستان کو زرِمبادلہ کے ذخائربرقرار رکھنے میں مدد تو ملے گی لیکن قرض بڑھے گا اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو اینڈ فنانس ڈاکٹر وقار مسعود نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ تاخیری ادائیگیوں پر سعودی عرب سے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر تیل کی فراہمی پراتفاق رائے ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے اس معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا ہے۔وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ دو ممالک کے درمیان خفیہ معاملہ ہے جس کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا جاسکتا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں گراوٹ کے باعث موخرادائیگیوں پر تیل کی فراہمی کے معاہدے پر عمل روک دیا تھا۔سالانہ تین ارب ڈالر کے ادھار تیل کا معاہدے کے تحت سال 2020-2019 کے مالی سال میں پاکستان نے صرف پونے دو ارب ڈالر کی سہولت حاصل کی تھی۔سعودی عرب نے 2018 کے آخر میں پاکستان کو چھ ارب 20 کروڑ ڈالر کا مالی پیکیج دیا تھا ۔

جس میں تین ارب ڈالر کی نقد امداد اور تین ارب 20 کروڑ ڈالرز کی سالانہ تیل و گیس کی موخرادائیگیوں کی سہولت شامل تھی۔معاون خصوصی ڈاکٹر وقار مسعود نے 2018 میں سالانہ تین ارب ڈالر کے ادھار تیل کی فراہمی کے معاہدے کو ڈیڑھ ارب ڈالر تک محدود کرنے کے اسباب بتانے سے بھی معذرت کی ہے۔حکومت نے حال ہی میں پیش کردہ بجٹ میں 6 کھرب 10 ارب روپے پٹرولیم لیوی کی مد میں جمع کرنے کا ہدف رکھا تھا جسے پر تنقید بھی سامنے آئی۔

قیمت اور ٹیکس پر فرق نہیں پڑے گا

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے زرِمبادلہ کے ذخائر مستحکم اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو محدود رکھنا ضروری ہے جس کے لیے دوست ممالک سے ادھار کا حصول آئی ایم ایف معاہدے کے مطابق ہے۔ماہرمعیشت دان ڈاکٹر اکرام الحق کہتے ہیں کہ موخر ادائیگیوں پرتیل کے حصول سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم رکھنے میں وقتی طور پر مدد ملے گی لیکن اس سے تیل کی قیمت یا ٹیکس کی وصولی پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سالانہ21 سے 22 ارب ڈالر کا تیل درآمد کررہا ہے جس سے زرِمبادلہ کے ذخائر کی کم سے کم حد تک برقرار رکھنا مشکل ہورہا ہے۔ اسی لیے حکومت ادھار پر تیل حاصل کررہی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کو غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کی کم سے کم حد برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے جو کہ زیادہ تر غیر ملکی قرض سے حاصل کیے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button