کیف؍لندن ، 2مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یوکرین کے صدر ولودی میرزیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کو جنگ بندی پر بامعنی مذاکرات شروع کرنے سے پہلے ہمارے شہروں پر بمباری بندکرنی چاہیے کیونکہ اس ہفتے مذاکرات کے پہلے دورمیں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔
سخت حفاظت والے سرکاری احاطے میں ریکارڈ کیے گئے ایک انٹرویو میں زیلنسکی نے معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے رکن ممالک پر زوردیا کہ وہ روسی فضائیہ کو روکنے کے لیے نو فلائی زون نافذ کریں۔
یہ ایک روک تھام کا اقدام ہوگا،اس کا مقصد اتحاد کوروس کے خلاف جنگ میں گھسیٹنا نہیں۔زیلنسکی نے روسی فوج کی پیش قدمی کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف کوچھوڑنے کی پیش کش قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر نیٹو نے یوکرین کی رکنیت کے امکانات کا دروازہ بند کر دیا تو وہ پھرقانونی طورپرپابند حفاظتی ضمانتوں کا مطالبہ کرے گا۔
انھوں نے روس کے ساتھ مزید بات چیت کے لیے اپنی شرائط پیش کی ہیں۔ انھوں نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز اورامریکی نشریاتی ادارے سی این این کو ایک مشترکہ انٹرویومیں بتایا کہ یہ ضروری ہے کہ کم سیکم لوگوں پربمباری بند کی جائے،صرف بم باری کو روکا جائے اور پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائیں۔وہ جب یہ گفتگو کررہے تھے تو اس دوران ہی میں یہ خبر سامنے آئی کہ یوکرین کے دارالحکومت کیف میں ایک روسی میزائل نے ایک ٹی وی ٹاور کو نشانہ بنایا ہے۔
اس سے قبل منگل کے روزروسی فوج نے مشرقی شہر خارکیف کے وسط میں میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔یوکرین کونیٹو کے بعض رکن ممالک کی جانب سے ہتھیار موصول ہوئے ہیں تاکہ اس کو روسی افواج کے مکمل حملے کا مقابلہ کرنے میں مدد مل سکے جبکہ مغرب نے روسی معیشت پر بعض سخت پابندیاں بھی متعارف کرائی ہیں۔
لیکن زیلنسکی نیعالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ نو فلائی زون مسلط کرنے سمیت مزید اقدامات کرے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے ذاتی طور پرانھیں بتایا تھا کہ اب ایسا اقدام متعارف کرانے کا وقت نہیں رہا ہے۔یوکرین نیٹو سے یہ بھی مطالبہ کررہا ہے کہ وہ اس کوجلد سے جلد تنظیم کی رکنیت دے جبکہ روس نے اس اقدام کی شدید مخالفت کی ہے اور اسے یوکرین کے خلاف گذشتہ ہفتے فوجی مہم کے آغاز کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔
زیلنسکی کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ ہمارے شراکت دار، اگر یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کوتیار نہیں، اور کیونکہ روس بھی ایسا نہیں چاہتا کہ یوکرین اس تنظیم میں شامل ہو، اس لیے ان کے ملک لیے سلامتی کی مشترکہ ضمانتیں طے کی جائیں۔
انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کامطلب یہ ہے کہ ہماری علاقائی سالمیت ہواور ہماری سرحدوں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔
یورپ ثابت کرے کہ وہ ہمارے ساتھ ہے: یوکرینی صدر زیلنسکی
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے یورپی پارلیمان سے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ روس کے ساتھ جنگ میں ان کے ملک اور یوکرینی عوام نے اپنے حوصلے دکھا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب یورپ ثابت کرے کہ وہ واقعی یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے۔روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی طرف سے ملکی افواج کو یوکرین پر حملے کا حکم دیے جانے اور گزشتہ کئی دنوں سے جاری روسی یوکرینی جنگ کے پس منظر میں یورپی پارلیمان نے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو دعوت دی تھی کہ وہ اس بلاک کے قانون ساز ادارے کے ایک خصوصی اجلاس میں ارکان سے خطاب کریں۔
زیلنسکی نے یکم مارچ کے روز یوکرین سے یورپی ارکان پارلیمان سے جو ورچوئل خطاب کیا، اس میں ان کا لب و لہجہ اور مستقبل کے حوالے سے کییف کی خواہشات دونوں ہی بہت واضح تھے۔
یوکرینی صدر نے اپنے بہت جذباتی پیغام میں کہا کہ جس وقت وہ یورپی قانون سازوں سے اپنا خطاب کر رہے تھے، وہ کییف پر روسی میزائلوں سے حملوں کے درمیانی وقفے کا مختصر سا وقت تھا۔وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی فوجی حملے کے بعد ان کے ملک اور یوکرینی عوام نے اپنے بلند حوصلے دکھا دیے ہیں اور اس جنگ کی صورت میں یوکرین اپنی بقا کی جدوجہد اور یورپ کا برابر حقوق والا ملک بننے کی کوششیں دونوں جاری رکھے ہوئے ہے۔
یوکرینی صدر نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آج ہم اپنی جانوں کی جو قربانیاں دے رہے ہیں، وہ یورپ میں برابری کے لیے ہماری خواہش کا عملی نتیجہ ہے۔ اس کے لیے ہمارے بہترین شہری اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہمیں کوئی توڑ سکتا ہے اور نہ نیچا دکھا سکتا ہے۔
ہم مضبوط ہیں، ہم یوکرینی ہیں۔ ہم نے اپنی ہمت اور حوصلے کا کھل کر مظاہرہ کیا ہے۔ ہم نے ثابت کر دیا یے کہ ہم بھی بالکل آپ جیسے ہی ہیں۔یوکرینی صدر نے یورپی ارکان پارلیمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں۔
ثابت کیجیے کہ آپ ہمیں بیچ راستے میں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ آپ کو ثابت کرنا ہو گا کہ آپ واقعی یورپی ہیں۔یوکرینی صدر کے خطاب سے پہلے یورپی پارلیمان کی اسپیکر روبیرٹا میٹسولا نے ارکان سے اپنے خطاب میں یوکرین پر روسی فوجی حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔
انہوں نے کہاکہ ہم اس وقت پوٹن کی شروع کردہ جنگ کے تاریک سائے میں ہیں، ایک ایسی جنگ جس کے لیے ہم نے نہ کوئی اشتعال انگیزی کی اور جو نہ ہی ہم نے شروع کی۔



