نیویارک، 7فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ نے انٹیلی جنس ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر تنبیہ کی ہے کہ گرچہ روس یوکرائن پر حملے سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیتا ہے مگر یوکرائن کی سرحدوں پر تعینات روسی فوجیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
روس نے یوکرائن پر وسیع تر حملے اور قبضے کی تیاری جاری رکھی ہوئی ہے مگر فی الحال یہ واضح نہیں کہ ماسکو حکومت عملی طور پر ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یا نہیں۔ امریکی اہلکاروں نے انٹیلی جنس ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کے تجزیے کی بنیاد پر یہ تنبیہ کی ہے۔
روس نے سن 2014 میں کریمیا کے خطے کو اپنے علاقے میں ضم کر لیا تھا اور مشرقی یوکرائن میں وہ آج بھی علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ ان دنوں روس نے یوکرائن کی سرحد پر ایک لاکھ سے زائد فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور خطے میں جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
اس پر مغرب اور روس کے درمیان شدید اختلافات اور تناؤ پایا جاتا ہے۔ ماسکو حکومت یوکرائن پر قبضے یا جنگ کی خبروں کو مسترد کرتی آئی ہے۔اس وقت 110,000 روسی فوجی یوکرائنی سرحد پر تعینات ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق جس رفتار سے روسی فوجی دستے یوکرائن کی سرحد پر جمع ہو رہے ہیں۔
فروری کے وسط تک وہاں تعینات روسی فوجیوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے، جو یوکرائن پر کسی ممکنہ بڑے حملے کے لیے کافی ثابت ہوں گے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ایسے کسی ممکنہ حملے کی صورت میں روس صرف دو دن کے اندر کییف حکومت کا تختہ پلٹ کر پورے ملک پر قابض ہو سکتا ہے۔
اس دوران ممکنہ طور پر 25 سے 50 ہزار شہری، پانچ سے 25 ہزار یوکرائنی فوجی جبکہ تین سے 10 ہزار روسی فوجی ہلاک ہو سکتے ہیں۔



