بین الاقوامی خبریں

روسی صدر ولادی میر پوتین نےمشرقی یوکرین کی دو باغی ریاستوں کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا

ماسکو، 22فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روسی صدر ولادیمیر پوتین نے فیصلہ کیا ہے کہ مشرقی یوکرین میں واقع روسی زبان بولنے والے ڈونسک اور لہانسک کے دونوں علاقوں کو بطور آزاد ریاستیں تسلیم کیا جائے گا۔ اس اعلان کے نتیجے میں اس خوف میں مزید اضافہ ہوا ہے کہ پوتین یوکرین پر حملہ کرنے والے ہیں۔

اپنے اعلان میں کریملن نے بتایا ہے کہ پوتین نے فرانس اور جرمنی کے سربراہان کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔سال 2014سے اب تک ڈونباس کے تنازع پر روس کے حامی اور کیف کی افواج کے مابین لڑائی میں اب تک 14000افراد مارے جا چکے ہیں، خندقوں سے کی جانے والی ان جھڑپوں کا آغاز روس نے کیا تھا،

جس نے یوکرین کے کرائیمیا کے جزیرے کو ضم کر دیا تھا۔علیحدگی پسند اس بات کے خواہاں ہیں کہ وہ روس کے ساتھ دوستی کے معاہدوں پر دستخط کریں، اور انھیں ہتھیاروں کی امداد دی جائے تاکہ وہ اپنا تحفظ کر سکیں۔ علیحدگی پسندوں کے بقول یوکرین کی ملٹری ہمارے خلاف اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔

روسی پارلیمان نے گزشتہ ہفتے پوتین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ڈونسک اور لہانسک کے عوامی جمہوریاؤں کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں۔ دونوں نے 2014میں یوکرین سے آزادی کا اعلان کیا تھا، حالانکہ کوئی بھی ملک ان ری پبلکز کوبطور آزاد ریاستیں تسلیم نہیں کرتا۔پوٹن نے کہا ہے کہ مشرقی یوکرین میں لڑائی کا کوئی پرامن حل ممکن نہیں۔

لیکن، ماسکو یہ بیان دیتا آیا ہے کہ اس کا یوکرین کیخلاف حملے کا کوئی ارادہ نہیں، حالانکہ اب بھی یوکرین کی سرحد پر ڈیڑھ لاکھ کے قریب روسی فوج تعینات ہے۔اس سے قبل رائیٹرز نے خبر دی تھی کہ روس نے الزام لگایا ہے کہ بکتر بند گاڑیوں میں سوار یوکرین کے فوجی تخریب کاروں نے روسی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی؛ لیکن کیف نے اس الزام کو جعلی خبر قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

اس کے برعکس مغربی ملکوں نے الزام لگایا ہے کہ روس کی جانب سے اس طرح کی جھوٹی خبریں پھیلانے کا مقصد یوکرین پر حملے کا بہانہ ڈھونڈنا ہے۔پیر کو روسی صدر نے اپنے اعلیٰ عہدے داروں کا ایک اجلاس طلب کیا جس میں مشرقی یوکرین کے علیحدگی پسند علاقوں کو تسلیم کیے جانے کے معاملے پر غور کیا گیا۔ 

یوکرین کے علاقوں کوآ زاد تسلیم کرنے پر امریکہ کا روس پر پابندیاں لگانے کا اعلان

امریکہ نے روس کی جانب سے مشرقی یوکرین کے علاقوں ڈونیسک اور لوہانسک کو آزاد علاقے تسلیم کرنے کے اعلان پر ماسکو پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ صدر بائیڈن نے مذکورہ علاقوں میں امریکی شہریوں کو سرمایہ کاری سے روکنے کے حکم نامے پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے بیان میں کہا کہ وہ روس کی جانب سے اس اقدام کی توقع کر رہے تھے اور اس پر فوری طور پر ردعمل دیا جائے گا۔پوٹن کی جانب سے اس اعلان کے بعد مغربی ممالک کا خدشہ مزید گہرا ہو گیا ہے کہ پوٹن نے یوکرین پر حملے کا مصمم ارادہ بنا لیا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے سینئر عہدے دار کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے حملے کا بہت حد تک خطرہ ہے۔سینئر عہدے دار نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں رپورٹرز کو بتایا کہ پچھلے چند گھنٹوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ روس نے ان علاقوں میں امن قائم کرنے کے بہانے سے اپنی افواج تعینات کی ہیں۔

عہدے دار کا کہنا تھا کہ یہ تقریر روس کی سلامتی کے لیے نہیں بلکہ یوکرین کی سالمیت اور اس کی آزادی پر حملے کے مترادف تھی۔امریکی عہدے دار کے بقول پوٹن نے واضح کیا تھا کہ ہ وہ یوکرین کو تاریخی طور پر روس کا حصہ سمجھتے ہیں۔

انہوں نے یوکرین کے ساتھ تنازع کے بارے میں کئی ایسے دعوے کیے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فوجی اقدام کا جواز تلاش کر رہے ہیں۔ یہ تقریر روسی عوام کے سامنے جنگ کو جواز پیش کرنے کے لیے تھی۔ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس منگل کو روس پر مزید پابندیاں عائد کرے گا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق روس کا اقدام بین الاقوامی قوانین، یوکرین کی سالمیت اور علاقائی سلامتی کی خلاف ورزی ہے،

ساتھ ہی روس کی جانب سے کیے گئے بین الاقوامی معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے اس بارے میں معلومات نہیں دیں کہ آیا امریکی سیکریٹری خارجہ اینٹنی بلنکن اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لارووف کے درمیان اس ہفتے کے اختتام پر ہونے والی شیڈول ملاقات ہو سکے گی یا نہیں۔

یہ ملاقات پوٹن بائیڈن ملاقات کی پیش بندی کے طور پر دیکھی جا رہی تھی۔پیر کو روسی صدر کے اس اعلان کے بعد واشنگٹن اور یورپی یونین نے روس پر معاشی پابندیوں کا اعلان کیا۔ یورپی یونین کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیئر لاین اور کونسل کے صدر چارلس مشیل نے پوٹن کی جانب سے ان علاقوں کی آزادی کو تسلیم کرنے کے اعلان کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔

اس سے پہلے کریملن کے مطابق پوٹن نے فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں کو پیر کو اپنے اس فیصلے کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button