بین الاقوامی خبریں

یمنی صدر کو استعفیٰ پر سعودی عرب نے مجبور کیا، امریکی اخبار کا انکشاف

نیویارک، 18اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق خانہ جنگی کے شکار ملک یمن کے صدر منصور ہادی کو سعودی عرب نے مستعفی ہونے پر مجبور کیا۔ اخبار کے مطابق ہادی اب ریاض میں اپنے گھر پر نظر بند ہیں اور ان کے رابطے محدود کیے جا چکے ہیں۔

واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق وال سٹریٹ جرنل نے اپنی اتوار کی اشاعت میں انکشاف کیا کہ گزشتہ کئی برسوں سے خانہ جنگی کے شکار اور انتہائی غریب عرب ملک یمن کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صدر عبد ربو منصور ہادی Abdrabbuh Mansur Hadi نے سات اپریل کو اپنا جو استعفیٰ دیا تھا، اس کی وجہ سعودی عرب کے حکمرانوں کی طرف سے ڈالا جانے والا دباؤ تھا۔

یمن کی خانہ جنگی میں ان دنوں ایک ایسا وقفہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو پچھلے کئی برسوں سے بہت ہی کم دیکھنے میں آیا تھا۔ ان حالات میں صدر منصور ہادی نے گیارہ روز قبل اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے اپنے اختیارات ایک نئی یمنی لیڈرشپ کونسل کے سپرد کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل نے نام لیے بغیر انتہائی قابل اعتماد سعودی اور یمنی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ صدر منصور ہادی نے اپنے استعفے سے قبل جو صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا، وہ تحریری شکل میں انہیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا تھا۔

اسی صدارتی حکم نامے میں ہادی نے اپنے اختیارات ایک ایسی نئی لیڈرشپ کونسل کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا، جو یمن کے مختلف سیاسی گروپوں کے آٹھ نمائندوں پر مشتمل ہے۔ذرائع کے مطابق چند سعودی حکام نے یہ دھمکی بھی دے دی تھی کہ اگر صدر منصوری ہادی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے سے انکار کیا، تو وہ ان کی کرپشن کے ثبوت عام کر دیں گے۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی اور یمنی حکام نے اس امر کی بھی مبینہ طور پر تصدیق کر دی ہے کہ استعفے کے بعد سے منصور ہادی سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اپنے گھر پر نظر بند ہیں۔ جریدے کے مطابق ان کی زندگی اب ان کی رہائش گاہ تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے اور اسے گھر پر نظر بندی کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔

سرکاری طور پر سعودی عرب نے صدر منصور ہادی کے مستعفی ہو جانے کا خیر مقدم کیا تھا اور ساتھ ہی کئی برسوں کی خانہ جنگی سے تباہ حال یمن کے لیے تین بلین ڈالر کی امدا دکا اعلان بھی کر دیا تھا۔

منصور ہادی یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے سربراہ تھے اور ان کی قیادت میں ہی، سعودی سربراہی میں قائم عسکری اتحاد کی مدد سے، یمنی حکومت کی فورسز کئی سال تک ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف لڑتی رہی تھیں۔

سعودی عرب اپنی سربراہی میں قائم عسکری اتحاد کی صورت میں منصور ہادی کی حکومت کی حمایت میں یمن کی خانہ جنگی میں 2015میں شامل ہوا تھا۔منصور ہادی یمن کے دارالحکومت صنعاسمیت ملک کے وسیع تر علاقوں پر ایران نواز حوثی باغیوں کے قبضے کے بعد فرار ہو کر سعودی عرب چلے گئے تھے اور تب سے اب تک وہیں مقیم ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button