ریاض،31؍مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب میں کورونا وائرس کے حوالے سے عائد پابندیاں کافی حد تک ختم کی جاچکی ہیں، سفری پابندیوں کے حوالے سے ویکسین اور قرنطینہ کی پابندی بھی ختم ہوچکی ہے۔کورونا پابندیوں کے دوران ایسے اقامہ ہولڈر غیرملکی جو مملکت سے باہر تھے انہیں سعودی عرب آنے کے لیے تقریباً دو ہفتے قرنطینہ میں گزارنا ہوتے ہیں۔
سفری پابندی کے حوالے سے ایک شخص نے جوازات کے ٹوئٹر پر دریافت کیا کہ بیرون ملک سے آنے والے اب بھی قدوم پورٹل میں رجسٹرکریں گے؟
اس بارے میں جوازات کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے مملکت آنے کے لیے تمام سفری پابندیاں ختم کی جاچکی ہیں، سفری پابندیوں کے خاتمے کے بعد براہ راست مملکت آسکتے ہیں۔واضح رہے سعودی وزارت داخلہ نے وزارت صحت کی سفارشات کی روشنی میں کورونا پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔
ان میں سب سے اہم سفری پابندیاں تھیں جن میں مملکت آنے والے اقامہ ہولڈرغیر ملکیوں کے لیے لازمی تھا کہ وہ سعودی عرب آنے سے کم از کم72 گھنٹے قبل ڈیجیٹل پورٹل ”قدوم’’میں اپنی ویکسینیشن کے بارے میں اندراج کرائیں۔
وزارت صحت کی سفارشات کے بعد سفری پابندیوں میں بھی کافی تبدیلیاں کی جاچکی ہیں جن کے تحت مملکت آنے والوں کو قدوم پورٹل میں رجسٹریشن نہیں کرانا ہوتی نہ ہی سعودی عرب آنے کے بعد انہیں قرنطینہ میں 5 دن گزارنا ہوتے ہیں۔خروج وعودہ ویزے کے حوالے سے ایک شخص نے جوازات کے ٹوئٹرپرسوال کیا کہ پاسپورٹ میں ایک ماہ باقی ہے کیا خروج وعودہ ویزہ حاصل کیا جا سکتا ہے؟
سوال کا جواب دیتے ہوئے جوازات کا کہنا تھا کہ مملکت میں مقیم غیر ملکی کارکنوں کے لیے لازمی ہے کہ خروج وعودہ ویزہ جمع کراتے وقت ان کے پاسپورٹ کی مدت میں کم از کم90 دن باقی ہوں۔ اس سے کم مدت ہونے کی صورت میں انہیں پاسپورٹ کی مدت میں توسیع کرانا ہوگی۔
واضح رہے کہ خروج وعودہ ویزہ یعنی ایگزٹ ری انٹری ویزے کے اجرا کے لیے پاسپورٹ کی مدت کا خیال رکھنا از حد ضروری ہے اگر کسی کو ہنگامی بنیاد پرجانا ہو تو اس کے لیے پاسپورٹ کی مدت میں اپنے سفارتخانے سے ایمرجنسی کی بنیاد پرتوسیع کرائی جاسکتی ہے۔
پاسپورٹ میں روایتی طریقے سے کی گئی توسیعی مدت کا اندراج جوازات میں کرانا ضروری ہے جسے عربی میں نقل معلومات کہا جاتا ہے۔جوازات کے سسٹم میں پاسپورٹ کی مدت کا اندراج کرانے کے بعد خروج وعودہ ویزہ جاری کرایا جا سکتا ہے۔
خروج وعودہ ویزے کے لیے اس امر کا بھی خیال رکھا جائے کہ جتنی مدت کے لیے ایگزٹ ری انٹری ویزہ جاری کرایا جائے گا۔اس دوران یا تو واپس آنا ہوتا ہے، اگر واپس آنے میں تاخیر ہو تو اس صورت میں خروج وعودہ ویزے کی مدت میں توسیع کرائی جائے۔
حوثی حملوں نے سعودی عرب کی دفاعی کمزوریوں کو اجاگر کر دیا ہے
جدہ ،31؍مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب کے ایک تیل کارخانے پر ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے جمعے کے روز کیے گئے حملے کے بعد سعودی قیادت والی بین الاقوامی فورسز نے یمن کے دارالحکومت صنعا کے قریب حوثیوں کے ٹھکانوں کو اتوار کے روز نشانہ بنایا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس حملے میں پانچ بچوں سمیت کم از کم آٹھ شہری ہلاک ہوگئے۔دوسری طرف جدہ میں فارمولا 1 ریس ٹریک کے قریب واقع ایک جلتے ہوئے تیل کارخانے سے اٹھنے والے سیاہ دھوئیں کے بادلوں کی تصویریں اس بات کی یاد دہانی کرارہی ہیں کہ 35ملین آبادی والا سعودی عرب حوثیوں کے حملوں کے خطرات سے کس قدر دوچار ہے۔
جرمنی میں واقع ‘سینٹر فار اپلائیڈ ریسرچ’ سے وابستہ ماہر سبسٹیان سنز نے DW سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ حملے کا وقت کسی اتفاق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا،”اس طرح کے حملے سعودی عرب کے لیے ایک ہولناک منظر ہیں۔ ان حملوں نے دنیا کو یہ باور کرادیا ہے کہ حوثی سعودی عرب میں کسی بھی جگہ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سعودی عرب اور حوثیو ں کے درمیان تصادم کا سلسلہ سن 2015سے جاری ہے جب سعودی قیادت والی اتحادی فوج نے یمن میں جاری جنگ میں یہ کہتے ہوئے مداخلت کی تھی کہ حوثیوں کو سعودی عرب کے علاقائی حریف ایران سے مدد مل رہی ہے۔ اس کے بعد سے ہی حوثی سعودی عرب کے اہم اہداف مثلاً تیل کے کارخانوں اور ہوائی اڈوں کو مسلسل نشانہ بنارہے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں حوثیوں کے حملوں میں قابل ذکر تیزی آئی ہے تاہم یہ بات حیران کن ہے کہ فوجی لحاظ سے اتنا طاقتور ملک خاطر خواہ فوجی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیوں نہیں کررہا ہے۔ایک وجہ سعودی عرب کے سب سے بڑے حلیف اور ہتھیاروں کے سپلائر امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی ہے۔
امریکہ نے اکتوبر 2018میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد مدد سے ہاتھ کھینچ لیے تھے۔اس کے بعد پیٹریاٹ اینٹی میزائل سسٹم اور ٹرمنل ہائی ایلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس (ٹی ایچ اے اے ڈی) سسٹم، جنہیں سن 2019میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے بعد نصب کیا گیا تھا، کی کارکردگی متاثر ہوگئی۔
اس کے علاوہ ہزاروں فوجیوں کو ریاض سے تقریباً 115 کلومیٹر دور واقع پرنس سلطان ہوائی اڈے سے ہٹا کردوسری جگہ تعینات کردیا گیا۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس سال جب حوثیوں کے حملوں میں شدت آگئی تو ریاض نے مارچ کے وسط میں امریکہ سے نئے پیٹریاٹ میزائل شکن نظام فوری طور پر فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔
سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں کو مناسب انداز میں بہتر بنانے کے لیے پیٹریاٹ میزائل کے ساتھ ہی ایک دیگر دفاعی سسٹم کی بھی ضرورت ہے۔واشنگٹن میں واقع تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ میں دفاعی اور سکیورٹی پروگرام کے ڈائریکٹر بلال صاب نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ سعودی دفاعی سسٹم اچھا کام کررہا ہے۔
مسئلہ خودکار فضائی نظام ہے، جسے کروز میزائل یا مسلح ڈرونز بھی کہا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جمعے کے روز ارامکو کے تیل کارخانے کو اسی طرح کے کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ ”یہ انٹرسیپٹر کی کمی کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ رڈار کا مسئلہ ہے۔ جو رڈار ہیں وہ کم اونچائی پر حملہ کرنے والے ہتھیاروں کا پتہ نہیں لگاپاتے۔” انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اسرائیل کے آئرن ڈوم جیسے معاون دفاعی سسٹم کی ضرورت ہوگی۔
ریاض ایک عرصے سے اسرائیل کے ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹم میں دلچسپی کا اظہار کرتا رہا ہے۔ دونو ں ملکوں میں گوکہ غیر رسمی بات چیت ہوتی رہی ہے لیکن ان میں اب تک باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ اس طرح کے سفارتی تعلقات کے بغیر سعودی عرب اسرائیلی ڈیفنس سسٹم نہیں خرید سکتا ہے۔



