بین الاقوامی خبریں

سعودی آرامکو کا اپنے تجارتی یونٹ کے ابتدائی حصص کی فروخت پرغور

ریاض ، 18 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو تیل کی قیمتوں میں تیزی کے بعد اپنے تجارتی بازو کی ابتدائی عوامی پیش کش پرغورکررہی ہے۔اس کے ابتدائی حصص کی مالیت اس سال دنیا میں کسی بھی کمپنی سے زیادہ ہوسکتی ہے۔باخبرذرائع کے مطابق سعودی ریاست کے زیرانتظام تیل کی بڑی کمپنی گولڈمین سچز گروپ ، جے پی مورگن چیس اینڈ کمپنی اور مورگن اسٹینلے سمیت بینکوں کے ساتھ مل کر اس ضمن میں کام کررہی ہے اور وہ اپنے تجارتی بازو ’آرامکو ٹریڈنگ کمپنی‘ کے اسٹاک مارکیٹ میں ممکنہ اندراج کا جائزہ لے رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق آرامکو کاٹریڈنگ یونٹ دسیوں ارب ڈالر کی مالیاتی قدرحاصل کرسکتا ہے۔ان میں سے دو کا کہنا ہے کہ اس کی مالیت ممکنہ طور پر 30 ارب ڈالر سے زیادہ ہوسکتی ہے۔آرامکو حال ہی میں مالیاتی قدر کے اعتبار سے دنیا کی سب سے امیرکمپنی قرار پائی ہے۔وہ آرامکوٹریڈنگ کے30 فی صد حصص فروخت کرسکتی ہے۔اس طرح وہ اس سال دنیا میں سب سے بڑے ابتدائی حصص کی پیش کش (آئی پی اوز)کرنے والی کمپنی بن جائے گی۔ جنوبی کوریا کے ایل جی انرجی سالوشن نے جنوری میں قریباً 10.8 ارب ڈالر ابتدائی حصص کی فروخت سے جمع کیے تھے۔

تیل پیدا کرنے والے دیگر بڑے ممالک نے زیادہ تر اپنے تجارتی یونٹوں کو چھپا رکھا ہے اور منافع کے بڑے ذرائع کے راز افشا کرنے سے محتاط ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آرامکو اب بھی ممکنہ اندراج کے فوائد اور خوبیوں پر بحث کر رہی ہے اور اس کے آگے بڑھنے کا کوئی یقین نہیں ہے۔ابتدائی حصص کی تفصیل بشمول حجم اور وقت اب بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ گولڈمین سچز، جے پی مورگن اور مورگن اسٹینلے کے نمائندوں نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکارکیا ہے جبکہ آرامکو اور آرامکو ٹریڈنگ کے ترجمانوں نے فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

مشرق وسطیٰ میں توانائی کمپنیاں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اثاثوں کی فہرست بنا رہی ہیں کیونکہ ان کی حکومتیں تیل پرانحصار کم کرنا چاہتی ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی راغب کرنا چاہتی ہیں۔ بلومبرگ نیوز نے گذشتہ ماہ خبردی تھی کہ آرامکو اپنی ریفائننگ کمپنی لوبیریف کے اندراج پرغور کر رہی ہے۔فروری میں اس معاملے سے آگاہ لوگوں نے بتایا تھا کہ سعودی عرب نے آرامکو کے اسٹاک کی ایک تازہ پیش کش پر بھی ابتدائی بات چیت شروع کی ہے جو دو سال قبل اس کے تاریخی اندراج سے زیادہ رقم اکٹھا کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button