دبئی ، 16 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) بلیو نامی نئی لگژری کشتی کے مالک شیخ منصور بن زید النہیان انگلش فٹبال کلب مانچسٹر سٹی کے بھی مالک ہیں۔’بلیو ‘‘کے 24 کمروں میں 48 مہمان قیام کر سکتے ہیں ،عملہ 80 افراد پر مشتمل ہے، یاٹ پر دو ہیلی پیڈ بھی ہیں، لگژری کشتی میں سوئمنگ پول، جم اور متعدد ریستوران بھی موجود ہیں۔لیورسین جرمن لگژری یاٹ کمپنی متحدہ عرب امارات کے حکمران خاندان سے تعلق رکھنے والے اور انگلش فٹبال کلب مانچسٹر سٹی کے مالک شیخ منصور بن زید النہیان بلیو نامی ایک نئی لگژری کشتی (میگا یاٹ) کے بھی مالک بن گئے۔ یہ کئی سہولیات سے آراستہ دنیا کی سب سے بڑی تفریحی کشتیوں میں سے ایک ہے۔شیخ منصور بن زید النہیان کی ملکیت میں پہلے بھی ٹوپاز نامی ایک پرتعیش کشتی موجود ہے لیکن اب بلیو نامی ایک اور لگژری کشتی نے پرتعیش کشتیوں کے مالکان کی فہرست میں ان کے درجے کو مزید بڑھا دیا ہے۔
جرمن لگژری یاٹ کمپنی لیورسین کے مطابق 160 میٹر طویل اور 15 ہزار ٹن سے زائد وزنی میگا یاٹ بلیو کے آزمائشی مراحل مکمل ہو چکے ہیں اور اب وہ بریمن کے شپ یارڈ سے اپنے نئے مالک شیخ منصور تک پہنچنے کے لیے بحیرہ روم کے سفر پر روانہ ہو چکی ہے۔ اس یاٹ کی مالیت 600 ملین امریکی ڈالر سے زائد ہے جبکہ اس کی دیکھ بھال اور استعمال پر ہر سال مجموعی قیمت کا دس فیصد خرچہ آتا ہے۔میگزین سپر یاٹ فین کے مطابق بلیو میں 24 کمرے ہیں جن میں 48 مہمان قیام کر سکتے ہیں اور اس کا عملہ 80 افراد پر مشتمل ہے۔
یاٹ پر دو ہیلی پیڈ بھی ہیں۔ اس کے علاوہ اس لگژری کشتی میں سوئمنگ پول، جم اور متعدد ریستوران بھی موجود ہیں۔ جرمن میڈیا گروپ سٹرن کی رپورٹ بتاتی ہے کہ صرف ازبک نژاد روسی تاجر عثمانوف اور عمانی سلطان ہیثم بن طارق کی لگژری کشتیاں ہی اس سے بڑی ہیں۔بلیو بنانے والی جرمن کمپنی لیورسین نے اس میں ہائبرڈ نظام نصب کیا ہے یعنی یہ کشتی ڈیزل کے علاوہ الیکٹرک انجن پر بھی چلتی ہے۔ اس کے گیئر باکس کے ساتھ دو ڈیزل انجن ہیں اور آہستہ چلانے پر یہ بجلی سے بھی چل سکتی ہے۔



