بین الاقوامی خبریں

ایرانی جیل میں نوعمر قیدیوں پر مبینہ جنسی تشدد کے لرزہ خیز انکشافات!

یہ چونکا دینے والے انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں

تہران، 27فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران میں ایک بلوچ انسانی حقوق گروپ نے اطلاع دی ہے کہ 6 بلوچ قیدیوں اور ایک مشہد سے تعلق رکھنے والے کم عمر نوجوان کو زاہدان سینٹرل جیل میں پانی کے پائپوں کے ذریعے مبینہ اجتماعی جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ چونکا دینے والے انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دوسری جانب تہران حکومت پرجیلوں میں قیدیوں پر مظالم کی خبریں معمول بن چکا ہے۔بلوچ ایکٹوسٹ کمپین نے چھ بلوچ قیدیوں کے نام شائع کیے جو زاہدان سنٹرل جیل میں جنسی تشدد کا نشانہ بنے تھے۔ ان کی شناخت 16 سالہ ابن حمید رضا، 19 سالہ الف کے، 19 سالہ ابن حمید رضا، 17 سالہ ابن غلام علی، انیس سالہ ولد حامد رضا اور اکیس سالہ ابن محمد شامل ہیں۔

مذکورہ قیدیوں کے پورے نام شائع نہیں کیے گئے۔رپورٹ میں تشدد کا شکار قیدیوں کے ناموں کو نامکمل رکھنے کی وجہ ان کے اہل خانہ کو پریشانی سے بچانا ہے۔انسانی حقوق گروپ نے مزید کہا کہ وہ ان گرفتار شدگان کی شناخت حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے، لیکن اسے خراسان رضوی کے دارالحکومت مشہد شہر سے حراست میں لیے گئے شہری کی شناخت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔اس نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ زاہدان سینٹرل جیل کے حکام نے ان قیدیوں سے جسمانی اور نفسیاتی تشدد کے ذریعے جبری اعترافات حاصل کرنے کیمکروہ ہتھکنڈے استعمال کیے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ جب وہ جبری اعترافات کے دیگر حربوں میں ناکام رہے تو انہوں نے ان قیدیوں کا اجتماعی ریپ کیا۔

مہم کی رپورٹ کے مطابق ’ ب ک‘ اور’ وائی ک‘ اس وقت زاہدان سینٹرل جیل میں بچوں کے اصلاحی ونگ میں قید ہیں۔ ’ب ک‘ نے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد 2 بار خودکشی کی کوشش کی۔ تیسری بار ٹوائلٹ فلشنگ تیزاب کرخود کشی کی کوشش کی گئی۔16 سالہ ’ ب ک‘ کے ساتھ جنسی زیادتی کے انکشاف کے بعد عدالتی حکام نے اس کے اہل خانہ کو زبانی طور پر مطلع کیا کہ زاہدان سٹی کورٹ کے ڈویژن نمبر 6 کی طرف سے جاری کردہ فیصلے میں لڑکے پر لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کا الزام ہے۔

زاہدان سینٹرل جیل کے حکام نے دھمکی دی کہ اگر ان کے ساتھ جنسی زیادتی کا معاملہ میڈیا میں شائع ہوا تو پانچ دیگر قیدیوں پر بھی تخریب کاری کا الزام عائد کیا جائے گا۔دوسری طرف ’ب ک‘ کی ماں اور اس کی خالہ 22 فروری کو جیل میں اس سے ملاقات کی۔ انہوں نے ملاقات کے بعد بتایا کہ بچے کی جسمانی اور نفسیاتی حالت خراب ہے۔بلوچ ایکٹوسٹ کمپین کی 2022 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اس مہم کو 305 گرفتاریوں کی رپورٹس موصول ہوئیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button