آبنائے ہرمز پر طاقت کی جنگ: امریکہ کی ناکہ بندی، ایران کا کنٹرول،عالمی تجارت خطرے میں
"ہرمز کی جنگ اب صرف راستے کی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے کنٹرول کی جنگ بن چکی ہے"
لندن 13 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں یہ تنازع صرف فوجی طاقت تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر براہ راست اثر ڈال رہا ہے۔
آبنائے ہرمز، جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے، دنیا کی تقریباً 27 فیصد سمندری تیل تجارت اور قریب 20 فیصد ایل این جی کی ترسیل کا مرکزی راستہ ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت کے باعث یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
مارچ کے آغاز میں ایران نے امریکی اور اسرائیلی دباؤ کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی اور یہاں تک اعلان کیا تھا کہ اگر کوئی جہاز اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اس پر کارروائی کی جائے گی۔ اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔
ابتدائی طور پر امریکہ نے اس معاملے میں براہ راست مداخلت سے گریز کیا اور دیگر ممالک، خصوصاً نیٹو اور چین، سے تعاون کی اپیل کی۔ تاہم خاطر خواہ حمایت نہ ملنے کے بعد امریکہ نے خود فوجی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے کو کھلوانے کی کوشش کی۔
بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی ہوئی اور یہ راستہ دوبارہ کھل گیا، لیکن صورتحال زیادہ دیر تک مستحکم نہ رہ سکی۔ اطلاعات سامنے آئیں کہ ایران اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول عائد کرنے پر غور کر رہا ہے، جس پر امریکہ نے سخت اعتراض کیا۔
اسلام آباد میں ہونے والی اہم سفارتی ملاقات بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی، جس کے بعد امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ اقدام ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے تمام جہازوں پر لاگو ہوگا، جبکہ دیگر ممالک کے جہازوں کو محدود حد تک آزادی دی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ جو بھی ملک یا جہاز ایران کو ٹول ادا کرے گا، اسے سمندر میں محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر پیش رفت جاری رکھی تو سخت فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا مکمل کنٹرول ہے اور وہ اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال صرف دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔



