فلمی دنیا

سپریم کورٹ کی سخت برہمی، سمے رائنا پر 3 لاکھ روپے جرمانہ، معذور افراد پر مذاق مہنگا پڑ گیا

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ آف انڈیا نے کامیڈین سمے رائنا (Samay Raina) سمیت پانچ کامیڈینس پر عدالت کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کے باعث 3 لاکھ روپے فی کس جرمانہ عائد کر دیا۔ عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "سمے رائنا نے عدالت کو دھوکہ دینے کی کوشش کی اور عدالت کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔”

چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے یہ حکم اس وقت جاری کیا جب عدالت کو بتایا گیا کہ سمے رائنا نے نہ تو معذور افراد کو اپنے شوز میں مدعو کیا اور نہ ہی Cure SMA India Foundation سے رابطہ کیا، حالانکہ اس کی یقین دہانی عدالت میں کرائی گئی تھی۔

عدالت نے یہی جرمانہ کامیڈین وپل گوئل، بلراج پرمجیت سنگھ گھئی، سونالی ٹھکر اور نشانت جگدیش تنور پر بھی عائد کیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ سمے رائنا نے عدالت میں دی گئی یقین دہانیوں کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ان کی جانب سے تعمیل کا حلف نامہ جمع کرانے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ ریکارڈ میں ایسا کوئی حلف نامہ موجود نہیں تھا۔

یہ مقدمہ "India’s Got Latent” شو میں اسپائنل مسکولر ایٹروفی (SMA) جیسے نایاب مرض میں مبتلا افراد اور ان کے علاج کے اخراجات پر کیے گئے مبینہ توہین آمیز مذاق سے متعلق ہے۔

Cure SMA India Foundation نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان تبصروں سے معذور افراد اور نایاب بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے جذبات مجروح ہوئے۔

اس سے قبل عدالت نے تمام کامیڈینس کی یقین دہانی قبول کرتے ہوئے انہیں ہدایت دی تھی کہ وہ معذور افراد کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے اور نایاب بیماریوں کے علاج کے لیے فنڈ جمع کرنے کی غرض سے ہر ماہ دو خصوصی پروگرام منعقد کریں۔

سماعت کے دوران فاؤنڈیشن کی جانب سے پیش ہونے والی سینئر وکیل اپراجیتا سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ سمے رائنا نے عدالت کے احکامات کے باوجود نہ تو فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا اور نہ ہی SMA مریضوں سے ملاقات کی۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے افراد کو نوجوانوں کا آئیڈیل سمجھنا باعث تشویش ہے۔

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بھی عدالت کو بتایا کہ سمے رائنا نے اپنے نئے شو کے آغاز میں "لیموں مرچی” لٹکا کر جاری مقدمے پر طنزیہ اشارہ کیا، جبکہ عدالت میں جمع کرائے گئے حلف ناموں میں بھی مناسب زبان استعمال نہیں کی گئی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ "یہ خود ساختہ آئیڈیل ہیں۔ عوامی زندگی میں دوسروں کی عزت کریں گے تو خود بھی عزت پائیں گے، لوگوں کی تذلیل سے عزت نہیں ملتی۔”انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ملک سے باہر بیٹھ کر عدالت کے دائرہ اختیار سے بچ سکتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔

سپریم کورٹ نے تمام پانچ کامیڈینس کو دو ہفتوں کے اندر 3 لاکھ روپے جرمانہ جمع کرانے اور 15 دن کے اندر تعمیل کا حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ حکم پر عمل نہ ہونے کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button