بین الاقوامی خبریں

شام: ادلب پناہ گزیں کیمپ میں سردی سے بچے ہلاک

بیروت ،2 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)شام میں شدید برف باری اور درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گرجانے کے سبب بے گھر افراد کے کیمپوں میں دو بچے ہلاک ہو گئے۔پناہ گزینوں کو انتہائی سردی کا سامنا ہے اور خیموں کو بچانے کے لیے بھی سخت جد و جہد کرنی پڑ رہی ہے۔

شام کے صوبے ادلب کے جورت الجوز علاقے میں واقع صدقہ کیمپ کے مکین اس ہفتے برفانی طوفان سے بری طرح متاثر ہوئے۔برف باری کی وجہ سے درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے پہنچ گیا اور شدید سردی کے سبب دو کم سن بچے ہلاک ہو گئے۔

اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایاکہ صوبہ ادلب کے ایک پناہ گزیں کیمپ میں ٹھنڈ کے سبب دو بچیوں کی موت ہو گئی۔ان میں سے ایک سات دن کی جبکہ دوسری دو ماہ کی تھی۔

صدقہ کیمپ کے ایک رہائشی ابو یامین نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایاکہ ہم برفانی طوفان سے متاثر ہوئے جس نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کی وجہ سے خیمے ہمارے سروں پر گر گئے، بس لوگ معجزانہ طور پر کسی طرح بچ گئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کیمپ میں ہزاروں کی تعداد میں شامی پناہ گزین رہ رہے ہیں اور کیمپوں کی صورت حال بہت افسوس ناک ہے۔سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ منگل کو جن بچوں کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے وہ ادلب شہر کے شمال میں الزیارا اور الشیخ بحر علاقوں کے کیمپوں میں مقیم تھے۔

برطانیہ میں قائم اس نگران گروپ نے مزید کہا کہ 23 جنوری کو حلب کے پڑوسی صوبے جرابلوس کے ایک کیمپ میں بھی ایک ماہ کا بچہ سردی کی وجہ سے ہلاک ہو گیا تھا۔اسی دوران 18 جنوری کو قلعہ مقداد کے علاقے میں برفباری کے باعث خیمے کی چھت گرنے سے بھی ایک اور بچہ ہلاک ہو گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق، 18، 19 اور 25 جنوری کو خطے میں آنے والے طوفانوں کے نتیجے میں ادلب اور حلب میں بے گھر ہونے والے افراد کے 287 کیمپ برف باری، سیلاب اور تیز ہواؤں سے متاثر ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button