چین کے دباؤ کے آگے سرنگوں نہیں ہوں گے تائیوان اپنے دفاع کو مستحکم کرتا رہے گا : صدر سائی انگ وین
لندن، ۱۱؍اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چین اور تائیوان میں جاری حالیہ کشیدگی اور چینی صدر کے بیان کے بعد تائیوان کی صدر سائی انگ وین (Taiwan President Tsai Ing wen) نے کہا ہے کہ تائیوان اپنے دفاع کو مستحکم کرتا رہے گا تاکہ کوئی انہیں مجبور نہ کرسکے کہ وہ چین کے بتائے راستے کو قبول کرے جہاں نہ آزادی ہے اور نہ ہی جمہوریت۔تائیوان کی صدر کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ہفتے کو چین کے صدر شی جن پنگ نے تائیوان کو چین میں ضم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
چینی صدر نے اپنے بیان میں براہ راست طاقت کے استعمال کا ذکر نہیں کیا تھا۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بیجنگ کے گریٹ ہال میں خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا تھا کہ چینی عوام میں علیحدگی پسندی کی مخالفت کی ایک شاندار روایت ہے۔انہوں نے 1911 میں آخری بادشاہت کو ختم کرنے والے انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر کہا تھا کہ تائیوان کی علیحدگی مادرِ وطن کے دوبارہ اتحاد کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور قومی تجدید کے لیے سب سے خطرناک اور پوشیدہ خطرہ ہے۔
خیال رہے کہ چین تائیوان کو اپنا ہی صوبہ سمجھتا ہے اور اس کا یہ موقف رہا ہے کہ اسے ایک نہ ایک نہ دن چین میں ضم کر لیا جائے گا کہ چاہے اس کے لیے طاقت کا استعمال ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔البتہ تائیوان خود کو خود مختار ملک سمجھتا ہے اور اپنے دفاع کا عزم ظاہر کرتا رہا ہے۔شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی قومی خود مختاری اور علاقائی سا لمیت کے دفاع کے لیے چینی عوام کے ٹھوس عزم، پختہ ارادے اور مضبوط صلاحیت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مادرِ وطن کے اتحاد کا عمل مکمل ہو گا اور یہ لازمی طور پر پورا کیا جائے گا۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں تائیوان پر عسکری اور سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ وہ بیجنگ کی حکمرانی کو قبول کرے۔چند روز قبل چینی فضائیہ کے کئی طیاروں نے تائیوان کے ایئر ڈیفنس زون میں پروازیں کی تھیں جس پر امریکہ نے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
تائیوان کا کہنا ہے کہ صرف تائیوان کے عوام ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔قومی دن کی ریلی سے خطاب میں تائیوان کی صدر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ آبنائے تائیوان کے پار کشیدگی میں کمی ہو گی اور تائیوان ‘عجلت میں ردِعمل’ نہیں دے گا۔
البتہ انہوں نے یہ واضح کیا کہ اس میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ تائیوان کے عوام دباؤ کے آگے جھک جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے قومی دفاع کو مستحکم کرنا جاری رکھیں گے اور خود اپنا دفاع کرنے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی تائیوان کو مجبور نہ کر سکے کہ وہ اس راستے کو اختیار کرے جو چین نے اس کے لیے تیار کیا ہے۔
ان کے بقول اس کی وجہ یہ ہے چین نے جو راستہ تیار کیا ہے وہ نہ تائیوان کے لیے آزاد اور جمہوری طرزِ زندگی ہے نہ اس کے دو کروڑ 30 لاکھ لوگوں کے لیے خود مختاری ہے۔چین نے تائیوان کے لیے ’ایک ملک دو نظام‘ کا خود مختاری کا ماڈل پیش کیا ہے۔ جس سے ملتا جلتا ماڈل وہ ہانگ کانگ میں استعمال کرتا ہے۔
لیکن تائیوان کی تمام بڑی جماعتوں نے اس ماڈل کو خاص طور پر چین کے ہانگ کانگ میں سکیورٹی کریک ڈاؤن کے بعد مسترد کیا ہے۔ سائی نے چین کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات چیت کی پیش کش کو دوہرایا ہے۔ البتہ بیجنگ کی جانب سے تائیوان کی صدر کی تقریر پر فوری طور پر کوئی ردِ عمل نہیں سامنے آیا ہے۔



