
تلنگانہ کے ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں نام ہونا ووٹ محفوظ ہونے کی ضمانت نہیں
ڈرافٹ لسٹ میں نام موجود ہے تو بھی اپنا ووٹر اسٹیٹس ضرور چیک کریں۔
حیدرآباد، 19 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) تلنگانہ میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR 2026) کے تحت ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد انتخابی حکام نے ووٹرس کو خبردار کیا ہے کہ مسودہ ووٹر لسٹ میں نام موجود ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ ووٹر کا نام فائنل فہرست میں بھی برقرار رہے گا۔ حکام کے مطابق جن ووٹرس کو انتخابی ریکارڈ میں تضاد یا دیگر بے ضابطگیوں سے متعلق نوٹس جاری کیے گئے ہیں، انہیں مقررہ مدت میں جواب دینا اور مطلوبہ دستاویزات پیش کرنا ضروری ہے۔
انتخابی ریکارڈ کے مطابق تقریباً 92.36 لاکھ ووٹرس کو مختلف نوعیت کے تضادات اور تکنیکی مسائل کے حوالے سے نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں تقریباً 60.50 لاکھ ووٹرس کے نام، عمر، والد کے نام یا دیگر ذاتی تفصیلات میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے، جبکہ تقریباً 31.86 لاکھ ووٹرس کی رہائشی یا جغرافیائی تفصیلات 2002 کے انتخابی ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
شہری اور میٹروپولیٹن اضلاع میں یہ مسئلہ زیادہ نمایاں بتایا گیا ہے۔ حیدرآباد میں تقریباً 8.95 لاکھ بے ضابطگیوں اور 18.50 لاکھ غیر میاپنگ کیسز کی نشاندہی ہوئی ہے۔ رنگاریڈی میں تقریباً 11.44 لاکھ بے ضابطگیوں اور 13.22 لاکھ غیر میاپنگ کیسز، جبکہ میڑچل-ملکاجگری میں تقریباً 3.30 لاکھ بے ضابطگیوں اور 8.45 لاکھ غیر میاپنگ کیسز سامنے آئے ہیں۔
دیگر اضلاع میں نظام آباد میں تقریباً 3.92 لاکھ بے ضابطگیاں اور 45 ہزار غیر میاپنگ کیسز، سنگاریڈی میں 2.10 لاکھ، نلگنڈہ میں 1.65 لاکھ اور کریم نگر میں تقریباً 1.25 لاکھ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
بوتھ لیول آفیسرز (BLOs) متاثرہ گھروں کا دورہ کرکے ووٹرس کو زمرہ وار سرکاری نوٹس جاری کر رہے ہیں۔ نوٹس حاصل کرنے والے ووٹرس سے ان کی شناخت، عمر، پتہ اور رہائش سے متعلق ثبوت طلب کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں آدھار کارڈ، پاسپورٹ، بجلی کا بل یا دیگر قابل قبول دستاویزات شامل ہوسکتی ہیں۔
انتخابی حکام کے مطابق نوٹس کا مقررہ مدت میں جواب نہ دینے، مطلوبہ دستاویزات پیش نہ کرنے یا فیلڈ ویریفکیشن کے دوران متعلقہ پتے پر موجود نہ ہونے کی صورت میں ووٹر کے نام پر مزید کارروائی کی جاسکتی ہے اور نام فائنل ووٹر لسٹ سے حذف ہونے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
حکام نے ووٹرس کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف بی ایل او کے گھر آنے کا انتظار نہ کریں بلکہ خود بھی اپنے انتخابی ریکارڈ کی جانچ کریں۔ ووٹرس اپنے EPIC نمبر کے ذریعے متعلقہ سرکاری ووٹر سروس پورٹل پر نام اور اسٹیٹس چیک کرسکتے ہیں۔
اگر آن لائن ریکارڈ میں کسی قسم کا تضاد، نوٹس یا الرٹ نظر آئے تو ووٹرس کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق اصلاحی درخواست داخل کرنی چاہیے اور شناخت و رہائش سے متعلق دستاویزات تیار رکھنی چاہئیں۔
انتخابی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ فائنل ووٹر لسٹ کی اشاعت تک اپنے انتخابی ریکارڈ پر نظر رکھیں اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ انتخابی افسران کے ساتھ بروقت تعاون کریں، تاکہ کسی اہل ووٹر کا نام محض ریکارڈ میں موجود تضاد یا تکنیکی مسئلے کی وجہ سے متاثر نہ ہو۔



