بین الاقوامی خبریں

کویتی ولی عہد مجلس امہ کے اجلاس میں تلاوت قرآن پاک پر آبدیدہ

کویت سٹی، 19اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کویت میں مجلس امہ کے انتخابات کے بعد ایوان کے پہلے اجلاس کے موقعے پر ولی عہد الشیخ مشعل الاحمد الصباح تلاوت قرآن کریم پر رو پڑے۔اجلاس شروع ہونے سے قبل ایک رکن پارلیمنٹ نے سورہ آل عمران کی جیسے تلاوت کرنا شروع کی تو ولی عہد رو پڑے ۔ کویتی ولی عہد کی مجلس امہ کے اجلاس کے دوران تلاوت قرآن پاک پرورکنے کی ایک ویڈیو ’ٹویٹر‘ پر پوسٹ کی گئی ہے۔اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے ولی عہد نے کہا کہ مجلس امہ کے نو منتخب ارکان عوام کو جواب دہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام شہریوں کی ذمہ داریاں ارکان پر عاید ہوتی ہیں۔ مجلس امہ اور حکمران خاندان کو قوم کی طرف سے تمام ذمہ داریاں قبول کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو فتہ وفساد کی طرف لے جانے والے عناصردور رہنا ہوگا۔

بادشاہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کی شادی کا کیک نیلام کیا جائے گا

لندن ، 19اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)برطانیہ کے بادشاہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کی شادی کا کیک نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا۔ چار دہائیوں قبل ہونے والی برطانیہ کیاس وقت کے شہزادے اورموجودہ بادشاہ چارلس اورلیڈی ڈیانا کی شادی کا کیک نیلام کیا جائے گا۔بادشاہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کی شادی 1981 میں ہوئی تھی جس میں 3 ہزار سے زائد مہمانوں نے شرکت کی تھی۔ کیک کو نیلامی کے لیے پیش کرنے والے نائیجل رکیٹس شادی کے مہمانوں میں شامل تھے۔شاہی خاندان کی سب سے مشہور شادی کا کیک ایک برطانوی آکشن ہاؤس کے ذریعے نیلام کیا جائے گا۔ نیلامی سے قبل کیک کے ٹکڑے کی ممکنہ قیمت کا اندازہ 300 پاؤنڈز لگایا گیا ہے۔کیک کے ٹکڑے کو اس کے اصل باکس میں محفوظ رکھا گیا ہے۔

آسٹریلیا کے القدس (یروشلم) کے حوالے سے فیصلے پر اسرائیل شدید برہم

لندن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سرکاری عبرانی حکام نے "مغربی بیت المقدس” کو "اسرائیل” کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے سابقہ فیصلے کو منسوخ کرنے کے آسٹریلیا کے تازہ فیصلے پر اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعظم یائر لپیڈ نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ آسٹریلیا میں جس طرح سے یہ فیصلہ کیا گیا اس کے بعد میڈیا میں جھوٹی خبروں کا فوری ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایسے میں ہم صرف امید کر سکتے ہیں کہ آسٹریلوی حکومت دیگر معاملات میں زیادہ سنجیدہ ہو گی۔

.لپیڈ نے زور دے کر کہا کہ متحدہ القدس اسرائیل کا ابدی دارالحکومت ہے اور اس سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔اسرائیل کی وزارت خارجہ نے آسٹریلوی سفیر کوطلب کرکے ان کے ملک کی جانب سے القدس کو "اسرائیل” کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کی منسوخی کے اعلان کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔اسرائیلی وزارت خارجہ نے آسٹریلوی حکومت کے اس فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کیا۔دوسری طرف فلسطینی حکام اور مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے منگل کو آسٹریلیا کی طرف سے "مغربی القدس” کو اسرائیلی غاصب ریاست کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم نہ کرنے اور وہاں اپنا سفارت خانہ منتقل نہ کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔

ڈاکٹر نے تصدیق کی۔ حماس کے سیاسی بیورو کے رکن مہر صلاح نے کہا کہ آسٹریلیا کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو صہیونی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار صہیونی ریاست کے لیے ایک زبردست طمانچہ ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ روز آسٹریلیا نے مغربی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا سابق حکومت کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئےاپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button