کیف؍لندن، 19اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرین میں موجود روسی فوج کے نئے کمانڈر نے تسلیم کیا ہے کہ انہیں ان جنوبی اور مشرقی علاقوں میں شدید مزاحمت کا سامنا ہے جن کو روس نے حال ہی میں اپنے ساتھ ملانے کا دعوٰی کیا تھا۔برطانوی خبر رساں اداے روئٹرز کے مطابق یہ صورت حال روس کے لیے تشویش کی ایک اور علامت ہے۔اسٹریٹیجک لحاظ سے اہمیت کے حامل جنوبی علاقے خیرسن میں روسی چیف نے منگل کو کہا تھا کہ دریائے دنیپرو کے کنارے واقعہ چار قصبوں سے شہریوں کی ’منظم اور بتدریج نقل مکانی‘ ہوئی ہے۔روسی ایئر فورس کے جنرل سرگئی سروویکن جو اب روسی فورس کی کمان کر رہے ہیں، نے ریاستی نیوز چینل 24 بتایا کہ ملٹری آپریشن کے حوالے سے موجودہ صورت حال کو پریشان کن قرار دیا جا سکتا ہے۔
خیرسن کے حوالے سے سروویکن نے بتایا کہ ’وہاں مشکل صورت حال کا سامنا ہے، وہاں دشمن فوجیں جان بوجھ کر انفراسٹرکچر اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔پچھلے چند ہفتوں کے دوران خیرسن کے علاقے سے روسی فوج کو 20 سے 30 کلومیٹر تک پیچھے دھکیلا گیا ہے اور اس کو 22 کلومیٹر طویل دریائے دنیپرو جو یوکرین کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے کے کنارے گھیرے جانے کا خطرہ ہے۔زیپوریزہیا کے علاقے میں روس کی گورننگ کونسل کے رکن ولادیمیر روگوف کا کہنا ہے کہ یوکرینی فوج نے رات کے وقت حملے تیز کر دیے ہیں جہاں زیادہ تر زیپوریز پاورا سٹیشن کے ملازمین رہائش پذیر ہیں۔
یوکرین کے بجلی گھروں پر روسی حملے، نیٹو کی ’جوہری مشقیں‘ شروع
کیف ، 19اکتوبر::(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روسی فوج کی طرف سے یوکرین کے متعدد شہروں پر حملے جاری ہیں اور اس نے توانائی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، دوسری جانب نیٹو نے سالانہ جوہری مشقیں شروع کر دی ہیں۔یوکرین کے صدر وولودیمر زیلنسکی کے دفتر کے نائب سربراہ کائریلو ٹیموشنکو نے بتایا ہے کہ کیف میں بجلی گھر پر فضا سے تین حملے ہوئے ہیں۔کیف کے مئیر ویتالی کلیشنکو نے کہا ہے کہ دارالحکومت کے شمال میں تین دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں جہاں ایک اہم نوعیت کی تنصیب ہدف بنی ہے۔ٹیموشنکو نے بتایا کہ دو فضائی حملوں میں دنپرو میں توانائی کی تنصیب کو شدید نقصان پہنچا ہے۔زیتومئر شہرکے میئر نے کہا ہے کہ ایک فضائی حملے کے بعد شہر پانی اور بجلی کی فراہمی سے محروم ہو گیا ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ روس، ان کے بقول، دہشتگرد حملوں میں یوکرین کی توانائی کے ذرائع اور اہم نوعیت کے انفراسٹرکچر کو ہدف بنا رہا ہے۔انہوں نےاپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ اکتوبر دس کے بعد سے، یوکرین کے 30 فیصد پاورا سٹیشن تباہ کر دیئے گئے ہیں، جس کے سبب ملک بھر میں کئی علاقے بجلی سے محروم ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پوٹن حکومت کے ساتھ مذاکرات کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔ بجلی گھروں پر یہ فضائی حملے کیف پر پیر کے سلسلہ وار ہلاکت خیز ڈرون حملوں کے بعد کیے جا رہے ہیں جس کے بعد یوکرین کے صدر زیلنسکی اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے یہ مطالبات سامنے آ رہے ہیں کہ یوکرین کو فضائی دفاع کے لیے درکار ہتھیاروں سے لیس کیا جائے۔ برطانیہ کی وزارت دفاع نے منگل کے روز کہا کہ ڈرون حملوں کے علاوہ روس نے یوکرین میں مختلف اہداف پر دور مارمیزائل بھی داغے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری ژان پیئرے نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا تھا کہ یوکرین پر ڈرون حملے روسی صدر ولادی میر پوٹن کی سفاکیت ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ان کے الفاظ میں روس کو اس کے جنگی جرائم پر جوابدہ ٹھیرائے گا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریس نے بھی یوکرین کے مختلف شہروں پر میزائل اور ڈرون حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
روس کا ’ایرانی ڈرونز کا استعمال‘، یوکرین کا ایران سے تعلقات منقطع کرنے کا عندیہ
لندن، 19اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرین پر روس کی جانب سے ایرانی ساختہ ڈرون سے حملوں کے بعد یوکرینی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ صدر ولودیمیر زیلینسکی کو تجویز پیش کریں گے کہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کیے جائیں۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روس نے پیر کو یوکرین میں ’کامی کازے‘ (خود کش) ڈرونز سے توانائی کے منصوبوں اور عام شہریوں پر حملے کیے۔یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایرانی ساختہ ڈرون ’شاہد 136‘ سے کیے گئے، جبکہ ایران نے روس کو ڈرون مہیا کرنے کی تردید کی ہے۔یوکرینی وزیر خارجہ دمیترو کولیبا نے کہا کہ کیف کو یقین ہے کہ یہ ایرانی ڈرون ہیں اور جن یورپی ممالک کو شک ہے وہ انہیں ثبوت دینے کے لیے تیار ہے
کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ’یوکرین کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی پوری ذمہ داری تہران کی ہے۔ میں یوکرین کے صدر کو تجویز پیش کرنے جا رہا ہوں کہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ’یوکرینی شہریوں کو قتل کرنے کے لیے روس کی مدد کرنے پر یورپی یونین ایران پر پابندیاں عائد کرے، ایران پر سخت پابندیاں لگائی جائیں، کیونکہ ایران روس کو بیلسٹک میزائل بھی دینا چاہتا ہے‘۔ایران کا یہ عمل خوفناک اور دھوکہ دہی پر مبنی ہے، کیونکہ ایران نے کہا تھا کہ وہ جنگ کی حمایت نہیں کرتا اور وہ اپنے ہتھیاروں کے ساتھ کسی کی طرف داری نہیں کرے گا۔
گزشتہ روز ایرانی ڈرونز کی روس منتقلی پر یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پیر کو یوکرین نے تہران کو یوکرینیوں کے قتل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ’حالیہ چند ہفتوں میں روس نے ایرانی ساخت کے 136 ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔تاہم ایران نے یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے روس کو ڈرون سپلائی کرنے کے دعووں کی تردید کی ہے جبکہ روسی عہدیداروں نے اس حوالے سے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔



