دبئی، 3اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ کے محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو3.05 ارب ڈالرمالیت کے معاہدے کے تحت 300 پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت اورمتحدہ عرب امارات کو 2.25 ارب ڈالرمالیت کے ایک اور معاہدے کے تحت 96 ٹرمینل ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) میزائل گولے فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ الریاض نے پیٹریاٹ ایم آئی ایم-104 ای گائیڈنس اینہانسڈ میزائل ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل (جی ای ایم-ٹی) خرید کرنے کی درخواست کی تھی۔اس فروخت میں دیگرٹولز اور ٹیسٹ آلات بھی شامل ہوں گے۔
پنٹاگون نے کہا کہ یہ مجوزہ فروخت ایک شراکت دارملک کی سلامتی کو بہتربنائے گی اورامریکا کے خارجہ پالیسی کے اہداف اورقومی سلامتی کے مقاصد ممدومعاون ثابت ہوگی کیونکہ یہ ملک خطہ خلیج میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کی ایک طاقت ہے۔اس نے مزیدکہا کہ اس فروخت سے سعودی عرب کی موجودہ اورمستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں بہتری آئے گی۔نیزمتحدہ عرب امارات کو 2.25 ارب ڈالر مالیت کے ایک اور معاہدے کے تحت پیٹریاٹ جی ای ایم ٹی میزائل مہیا کیے جائیں گے،اس طرح اس کے میزائلوں کے گھٹتے ہوئے ذخیرے کو دوبارہ پورا کردیا جائے گا۔
بیان کے مطابق امریکہ کے مہیا کردہ میزائل یمن سے حوثی ملیشیا کے سرحدپاربغیرآدمی فضائی نظام سے شہری مقامات اوراہم بنیادی ڈھانچے پر بیلسٹک میزائلوں کے حملوں کے جواب میں سعودی عرب کی سرحدوں کے دفاع کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اور کیے جائیں گے۔پنٹاگون نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے تھاڈ میزائل راؤنڈز، دو تھاڈ لانچ کنٹرول اسٹیشنز (ایل سی ایس) اور دو تھاڈ ٹیکٹیکل آپریشنز اسٹیشن (ٹی او ایس) خریدکرنے کی درخواست کی تھی۔اس کے علاوہ اس سودے میں مرمت اور واپسی، نظام کو مربوط بنانا اور چیک آؤٹ، اور فاضل پرزہ جات بھی شامل ہیں۔ان ہتھیاروں کی فروخت سے امریکا کے قومی سلامتی کے مفادات میں مدد ملے گی اور ایک اہم علاقائی شراکت دار کی سلامتی میں بہتری آئے گی۔مجوزہ فروخت سے یواے ای کی خطے میں موجودہ اورمستقبل میں بیلسٹک میزائل حملوں کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو تقویت ملے گی اوراس کا امریکی افواج پر انحصار کم ہوگا۔
حجراسود کو بوسہ دینے اور وہاں نمازکی محفوظ روحانی ماحول میں ادائی کا منصوبہ تیار
ریاض، 3اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین جنرل صدر الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس کی رہ نمائی اور پیروی میں ادارے خانہ کعبہ میں حجر اسود کے قریب نماز کے اہتمام اور حجر اسود کو بوسہ دینے کے لیے محفوظ اور صحت مند روحانی ماحول کا منصوبہ تیار کیا ہے تاکہ نمازی اور عازمین عمرہ سکون کے ساتھ عبادت ادا کرسکیں۔صدارت عامہ مْتعلقہ حکام کی شراکت کے ساتھ کام کر رہا ہے تاکہ مسجد حرام مساجد اور عازمین کوعبادات اور زیارت کے لیے بہترین خدمات فراہم کی جا سکیں۔ اس حوالے سے صدارت عامہ ترقی یافتہ تنظیمی منصوبے کے ذریعے مختلف شعبوں میں بہت سی خدمات فراہم کرتا ہے۔یہ تمام خدمات سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے زائرین اور نمازیوں کے لیے بہترین سروسز کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔
سعودی عرب : نجران میں تین افراد دلدل میں ڈوبے ، گورنر کا تحقیقات کا حکم
ریاض، 3اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب کے علاقے نجران میں ثار کے علاقے میں سول ڈیفنس نے منگل کو بتایا ہے کہ اسے ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کہ 3 افراد پانی کی دلدل میں ڈوب گئے ہیں۔تھرمیں جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس نے ٹویٹر پر کہا کہ متاثرین کو باہر نکال لیا گیا ہے،تاہم ان کی موقت ہوچکی تھی۔
نجران کے گورنر شہزادہ جلوی بن عبدالعزیز بن موسیٰ نے متعلقہ حکام کو اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے اس کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔گذشتہ شام ثار اور حبونا گورنری میں ڈوبنے کے دو الگ الگ واقعات پیش آئے۔ ثار گورنری میں تیراکی کے دوران تین بچے ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ گورنری میں الرحبہ ہجرت کے ایک دلدل میں ایک اور دوسرا واقعہ وادی ارکان میں پیش آیا۔نجران ریجن کے گورنرنے اس المناک نقصان پر متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔



