بین الاقوامی خبریں

ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، معاہدہ نہ ہوا تو پاور اسٹیشنز اور پل تباہ کر دیں گے، سچویشن روم میں بڑے حملے پر غور

ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ، معاہدہ نہ ہوا تو پاور اسٹیشنز اور پل تباہ کر دیں گے، سچویشن روم میں بڑے حملے پر غور

واشنگٹن :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے مذاکرات اور معاہدے کی راہ اختیار نہ کی تو امریکہ آئندہ دنوں میں اپنے فوجی حملوں کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے ایران کے پاور اسٹیشنز، پلوں اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا۔

فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ "اگلا ہفتہ ایران کے لیے بہت برا ہوگا۔ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو ہم اس کے تمام پاور اسٹیشنز اور پل تباہ کر دیں گے۔” ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک وہ خود انہیں روکنے کا فیصلہ نہ کریں۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اگر موجودہ کارروائیاں اسی سطح پر جاری رہیں تو ایران کو اپنی عسکری طاقت بحال کرنے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ منگل کے روز امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان رابطہ ہوا، جس میں واشنگٹن نے تہران پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد معاہدہ قبول کرے۔ ان کے مطابق امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا، آبنائے ہرمز میں عالمی جہاز رانی کو محفوظ بنانا اور ایران کی فوجی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا کہ امریکی افواج نے مسلسل چوتھے روز بھی ایران میں متعدد اہداف پر حملے کیے۔ سینٹکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ امریکی فوج ایرانی ساحلی علاقوں اور بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کو بھی مزید مؤثر بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔

ادھر امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اعلیٰ سطحی قومی سلامتی اجلاس کی صدارت کی، جس میں ایران کے خلاف موجودہ کارروائیوں سے کہیں زیادہ وسیع فوجی حملے کے امکانات پر غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں ایران کی اہم اسٹریٹجک تنصیبات، فضائی دفاعی نظام، ریڈار مراکز، میزائل اڈوں اور دیگر حساس اہداف پر ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی حکام ایک ایسے زیر زمین مقام پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں جسے صدر ٹرمپ نے "مشتبہ سرگرمی” کا مرکز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہاں جوہری سرگرمیوں کے شواہد یا معمولی نقل و حرکت بھی دیکھی گئی تو امریکہ پوری طاقت کے ساتھ کارروائی کرے گا۔

ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہوگا، ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی نمائندوں نے ایرانی حکام کو واضح پیغام دیا ہے کہ معاہدہ ہی موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button