دبئی ، یکم فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)متحدہ عرب امارات نے یکم جون 2023سے شروع ہونے والے کاروباری منافع پر پہلی مرتبہ وفاقی کارپوریٹ ٹیکس ( TAX Corporate Profit) متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔البتہ کاروباری اداروں کے لیے اس کی کشش برقراررکھنے کی غرض سے اس کی بنیاد کم رکھی گئی ہے۔
یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کی جانب سے جاری کردہ وزارت خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹیکس ملک کی تمام کارپوریشنوں اورتجارتی سرگرمیوں پر عایدکیاجائے گا،سوائے’’قدرتی وسائل نکالنے‘‘کے،اس پر امارت کی سطح پرٹیکس کا نفاذ جاری رہے گا۔
یواے ای کی حکومت نے یہ اقدام تیل کی آمدن کے علاوہ مالی وسائل میں تنوع پیدا کرنے کے ضمن میں کیا ہے۔قبل ازیں 2018 متحدہ عرب امارات نے زیادہ تراشیاء اور خدمات پر 5 فی صد کی معیاری شرح سے اضافی قدری ٹیکس متعارف کرایا تھا۔
وزارت خزانہ نے کہا کہ اس نئے نظام کامطلب 9 فی صد کی معیاری قانونی ٹیکس شرح کانفاذ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروباروں اوراسٹارٹ اپ کی معاونت کے لیے تین لاکھ 75 ہزاردرہم (102,107.50 ڈالر) تک قابل ٹیکس منافع پر چھوٹ دی جائے گی اور ان پراس نئے ٹیکس کی شرح صفر فیصد ہوگی۔
بیان میں کہاگیا ہے کہ علاقائی مالیاتی مرکزمتحدہ عرب امارات میں کاروباری اداروں کوحصص سے حاصل ہونے والے سرمائے کے منافع اوراس پرٹیکس اداکرنے سے مستثناقراردیا گیا ہے۔نئے پروگرام میں افراد کورئیل اسٹیٹ اور دیگرسرمایہ کاری پر کیپٹل گین ٹیکس اورایسی آمدن پرانکم ٹیکس سے استثنا ء برقراررکھا گیا ہے جو کسی کاروبارسے حاصل نہیں ہوتی ہے۔
وزارت نے واضح کیا ہے کہ یواے ای کا کارپوریٹ ٹیکس نظام فری زون میں کاروباری اداروں کو پیش کی جانے والی کارپوریٹ ٹیکس مراعات کااحترام جاری رکھے گا لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ یہ ادارے تمام ریگولیٹری تقاضوں کی تعمیل کرتے ہوں اوروہ متحدہ عرب امارات مین لینڈ کے ساتھ کاروبارنہیں کرتے ہیں۔



