
2020 دہلی فسادات کیس: عمر خالد کو ہفتے میں دو ویڈیو ملاقاتوں کی اجازت، دہلی عدالت کا حکم
عدالت نے عمر خالد کو ہفتے میں دو بار اہل خانہ سے ویڈیو ملاقات کی اجازت دے دی
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دہلی کی ایک عدالت نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مقدمے میں قید سماجی کارکن عمر خالد کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں جیل میں اپنے اہل خانہ سے ہفتے میں دو بار ویڈیو ملاقات کی سہولت بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔
کرکڑڈوما عدالت نے بدھ کو اپنے فیصلے میں کہا کہ عمر خالد گزشتہ چھ برس سے اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے تھے اور اس دوران انہوں نے جیل کے کسی بھی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی، لہٰذا ویڈیو ملاقاتوں کی تعداد کم رکھنے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں ہے۔
عدالت کا یہ حکم اس وقت سامنے آیا جب مئی 2026 میں جیل انتظامیہ نے عمر خالد کی ہفتہ وار ویڈیو ملاقاتوں کی تعداد دو سے کم کرکے ایک کر دی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ میں ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس کی بنیاد پر اس پابندی کو برقرار رکھا جا سکے، لہٰذا سابقہ سہولت بحال کی جاتی ہے۔
عمر خالد 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں جیل میں بند ہیں۔ اس مقدمے میں شرجیل امام سمیت کئی دیگر افراد بھی ملزم ہیں۔
استغاثہ کا الزام ہے کہ یہ افراد شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور مجوزہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) کے خلاف احتجاج کے دوران ہونے والے فسادات کی مبینہ سازش کا حصہ تھے۔فروری 2020 میں ہونے والے ان فسادات میں 53 افراد ہلاک جبکہ 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔تمام ملزمان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (UAPA) اور ہندوستانی تعزیرات (IPC) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب چند روز قبل دہلی کی عدالت نے عمر خالد اور شرجیل امام کی نئی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ مقدمے کی سماعت شروع نہ ہونے کے باوجود طویل عرصے تک جیل میں رکھنا ان کے بنیادی حقِ آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے اس مشاہدے کا بھی حوالہ دیا تھا کہ مناسب حالات میں یو اے پی اے کے مقدمات میں بھی ضمانت اصول ہونی چاہیے۔
تاہم عدالت نے کہا کہ 5 جنوری 2026 کو سپریم کورٹ پہلے ہی ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی ہے اور قرار دیا تھا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کا کردار دیگر شریک ملزمان سے "معیاری طور پر مختلف” ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ وہ محفوظ گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے یا ایک سال مکمل ہونے کے بعد، جو بھی پہلے ہو، دوبارہ ضمانت کی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔



