بین الاقوامی خبریں

ایرانی جوہری پروگرام روکنے کیلئے فوری عالمی کارروائی کی جائے: اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز

نیتن یاہو نے نئی حکومت میں مذہبی صیہونیت کو شامل کرلیا

مقبوضہ بیت المقدس،2دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز Defense Minister Benny Gantz  نے خبردار کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام میں توسیع جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کے خلاف عالمی برادری کی جانب سے فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔بینی گینٹز نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا کہ ایران اپنی جوہری صلاحیتوں میں اضافہ جاری رکھے ہوئے ہے اور اگر اس نے یہ سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تو وہ دو ہفتوں کے اندر 90 فیصد تک یورینیم افزودہ کر سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ایران کے ان اقدامات کے خلاف گہرے اتحاد اور طاقت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ گینٹز نے ایران پر خلیج اور بحیرہ احمر میں گزشتہ پانچ سالوں میں شہری غیر ملکی بحری جہازوں پر 16 حملے کرنے کا الزام بھی عائد کر دیا۔مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران خطے میں امریکہ اور اسرائیل نے سب سے بڑی مشترکہ فوجی فضائی مشقیں بھی کی ہیں۔ ان مشقوں میں طویل فاصلے کی پروازیں بھی شامل تھیں۔ یہ وہ پروازیں تھیں جن کی اسرائیلی پائلٹوں کو ایران پہنچنے کی ضرورت ہو گی۔

اسرائیلی فضائیہ نے اپنی اس مشق کو برسوں میں اپنی سب سے بڑی مشقوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ کیونکہ امریکی فضائیہ کے ساتھ مل کر یہ مشقیں ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف جارحانہ حملوں کی نمائندگی کررہی تھیں۔ایران کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی رابرٹ مالی نے بدھ کو انکشاف کیا کہ صدر جو بائیڈن ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کیلئے فوجی آپشن استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم یہ فوجی آپریشن اس وقت ہوسکتا ہے جب پابندیوں اور سفارت کاری کی کوششیں ناکام ہو جائیں۔یہ بات رابرٹ مالی نے امریکی میگزین "فارن پالیسی” کے ساتھ انٹرویو میں کی۔ انہوں نے کہا ہمارے پاس پابندیاں ہیں ، ہمارے پاس دباؤ ہے اور ہمارے پاس سفارت کاری ہو گی، اگر اس میں سے کوئی بھی کام نہیں کرتا تو صدر نے آخری حربے کے طور پر کہا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے اگر ضروری ہوا تو فوجی آپشن سے بھی اتفاق کریں گے۔ ایسا ہی ہوگا لیکن اس وقت ہم اس حالت میں نہیں ہے۔تاہم امریکی ایلچی نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ اب بھی امید رکھتی ہے کہ ایران اپنا موجودہ راستہ بدل لے گا۔

نیتن یاہو نے نئی حکومت میں مذہبی صیہونیت کو شامل کرلیا

Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu
Reuters-pic

بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں لیکوڈ پارٹی نے  کہا ہے کہ نامزد اسرائیلی وزیر اعظم نے انتہائی دائیں بازو کی مذہبی صہیونی پاور پارٹی کے ساتھ حکومتی اتحاد میں شامل ہونے کا معاہدہ کیا ہے تاکہ اسرائیل میں گذشتہ ماہ ہونے والے کنیسٹ کے انتخابات کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے قریب پہنچا جا سکے۔لیکوڈ نے وضاحت کی کہ مذہبی صہیونی پارٹی کو دیگر محکموں کے ساتھ ساتھ باری باری وزارت خزانہ کا کنٹرول بھی دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ تبدیلی کیسے ہوگی؟۔بزلئیل سموٹریچ نے نیتن یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ آج ہم ایک یہودی، صیہونی اور قومی حکومت کے قیام کے لیے ایک اور تاریخی قدم اٹھا رہے ہیں جو سلامتی کو بحال کرے گی اور یہودی بستیوں کو وسعت دے گی۔اسرائیلی آرمی ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ مذہبی صہیونی پارٹی کے رہنما بزلئیل سموٹریچ ابتدائی طور پر وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالیں گے۔ اس کے بعد باری کے مطابق کوئی دوسرا شخص یہ عہدہ سنبھالے گا۔نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کے بلاک نے اپنے انتہائی آرتھوڈوکس اور انتہائی دائیں بازو کے یہودی اتحادیوں کے ساتھ کنیسٹ سیٹوں کی اکثریت حاصل کی تھی۔ اس طرح انہوں نے 120 رکنی پارلیمنٹ میں سے 64 نشستیں حاصل کیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button