سرورققومی خبریں

مغربی بنگال: حکومت نے 75 مسلم برادریوں کے او بی سی معاملے میں سپریم کورٹ سے اپیل واپس لے لی، ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار

بی جے پی حکومت نے ممتا بنرجی دور میں دائر اپیل واپس لے لی-ان برادریوں میں 75 مسلم برادریاں شامل تھیں۔

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مغربی بنگال میں او بی سی (دیگر پسماندہ طبقات) ریزرویشن سے متعلق ایک اہم قانونی معاملے میں ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ سے اپنی اپیل واپس لے لی ہے۔ یہ اپیل کلکتہ ہائی کورٹ کے مئی 2024 کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی، جس میں 75 مسلم برادریوں سمیت مجموعی طور پر 77 برادریوں کو او بی سی فہرست سے خارج کرتے ہوئے ان کا ریزرویشن کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جویمالیا باغچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ نے ریاستی حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپیل واپس لینے کی اجازت دے دی۔ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ مغربی بنگال کابینہ نے اس مقدمے کو مزید نہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد سپریم کورٹ نے درخواست واپس لینے کی منظوری دے دی۔

یہ اپیل ابتدا میں سابق ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت نے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی تھی، تاہم 2026 کے اسمبلی انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے والی بی جے پی حکومت نے اس اپیل کو واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ اسی کے ساتھ مغربی بنگال بیک ورڈ کلاسز کمیشن نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپنی علیحدہ اپیل واپس لے لی۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اپیل واپس لینے سے دیگر متاثرہ افراد یا اداروں کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔ عدالت نے کہا کہ اگر کوئی متاثرہ فریق کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنا چاہتا ہے تو وہ سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت کی درخواست (SLP) دائر کر سکتا ہے۔ سماعت کے دوران متاثرہ افراد کی جانب سے سینئر وکیل شادان فراست نے بھی عدالت سے الگ اپیل دائر کرنے کی اجازت طلب کی، جسے عدالت نے برقرار رکھا۔

واضح رہے کہ مئی 2024 میں کلکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال حکومت کی جانب سے 77 برادریوں کو او بی سی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا تھا۔ ان برادریوں میں 75 مسلم برادریاں شامل تھیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان برادریوں کو او بی سی درجہ دینے کے عمل میں قانونی خامیاں پائی گئیں اور بظاہر مذہب کو بنیادی معیار بنایا گیا، جو آئینی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے اپریل سے ستمبر 2010 کے درمیان جاری کیے گئے متعلقہ نوٹیفکیشنز کو بھی کالعدم قرار دیا تھا، جبکہ 2012 کے قانون کے تحت مزید 37 برادریوں کی شمولیت بھی منسوخ کر دی گئی تھی۔

ریاستی حکومت کی اپیل واپس لینے کے بعد اب یہ قانونی چیلنج صرف اسی صورت میں جاری رہے گا جب کوئی متاثرہ شخص یا ادارہ سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف الگ اپیل دائر کرے گا۔ عدالت نے اپنے حکم میں اس راستے کو کھلا رکھا ہے۔

دوسری جانب مغربی بنگال کی بی جے پی حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق ریاست کے او بی سی ریزرویشن نظام میں بڑی تبدیلیاں بھی نافذ کر دی ہیں۔ نئے فریم ورک کے تحت صرف وہی 66 برادریاں او بی سی فہرست میں برقرار رکھی گئی ہیں جنہیں 2010 سے پہلے کیے گئے سرویز کی بنیاد پر تسلیم کیا گیا تھا، جبکہ ہائی کورٹ کی جانب سے منسوخ کی گئی 77 برادریوں کو فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمتوں اور خدمات میں او بی سی ریزرویشن کا تناسب 17 فیصد سے کم کرکے 7 فیصد کر دیا گیا ہے اور بیک ورڈ کلاسز کمیشن کو دوبارہ یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مختلف برادریوں کی شمولیت یا اخراج کے لیے سروے کرے، درخواستوں کا جائزہ لے اور اپنی سفارشات ریاستی حکومت کو پیش کرے۔

حکومت نے 66 پرانی او بی سی برادریوں کو نئے 7 فیصد ریزرویشن کوٹے کے تحت برقرار رکھا ہے۔ ان میں کپالی، کرمی، کرماکر، سوتردھار، سوارنکار، ناپت، تانتی، دھنک، قصائی، دیونگا، گوالا اور تین مسلم برادریاں—پہاڑیا، حجام اور چودولی—بھی شامل ہیں۔ اس طرح مغربی بنگال میں او بی سی ریزرویشن کا نیا قانونی ڈھانچہ نافذ ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جبکہ 75 مسلم برادریوں کے او بی سی درجہ سے متعلق قانونی تنازع اب دیگر متاثرہ فریقوں کی آئندہ قانونی کارروائی پر منحصر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button