لندن ، 21اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)برطانوی وزیر اعظم لز ٹرس کے استعفیٰ کے بعد ہر شخص کے ذہن میں یہی سوال گردش کررہا ہے کہ اگلا وزیراعظم کون ہوگا۔ متنازعہ اقتصادی پروگرام کے سبب مستعفی ہونے والی لز ٹرس کے جانشین کے لیے بھی اقتدار سنبھالنا آسان نہیں ہو گا۔صرف 45 دنوں کے لیے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے والی لز ٹرس برطانیہ کی سب سے کم عرصے کے لیے اقتدار میں رہنے والی رہنما بن گئی ہیں۔ان سے قبل یہ ریکارڈ جارج کیننگ کے نام تھا جو 1827 میں اپنی وفات سے قبل صرف 119 دنوں تک وزیر اعظم رہے تھے۔لز ٹرس نے بہر حال برطانیہ کی تیسری خاتون وزیر اعظم کے طور پر بھی تاریخ میں اپنا نام درج کرا لیا ہے۔
اس سے قبل مارگریٹ تھیچر اور تھریسا مے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوچکی ہیں۔اگلے ہفتے تک پارٹی کے قائد کا انتخاب مکمل ہونے تک لزٹرس وزیر اعظم کا کام دیکھتی رہیں گی۔ تاہم یہ سوال سب کے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ ان کا جانشین کون ہوگا۔ حکمراں کنزرویٹیو پارٹی میں اختلافات کو دیکھتے ہوئے،ممکنہ کساد بازاری کی طرف بڑھتے ہوئے برطانیہ کی قیادت سنبھالنے والا کوئی متفقہ امیدوار نظر نہیں آرہا ہے۔نئے قائد کے لیے نامزدگیاں پیر کو بند ہوجائیں گی۔
قیادت کی خواہش مند امیدواروں کو دوڑ میں شامل ہونے کے لیے کم از کم 100 اراکین پارلیمان کی حمایت ضروری ہے۔رشی سوناک کنزرویٹیو اراکین پارلیمان کے درمیان مقبول ترین امیدواروں میں سے ایک ہیں۔ سابق برطانوی وزیر خزانہ چھ ہفتے قبل پارٹی کی قیادت کے لیے ہونے والے انتخابات میں لز ٹرس سے ہار گئے تھے۔کنزرویٹیو پارٹی کے سینئر رکن پارلیمان میل اسٹرائیڈ نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا کہ وہ بھارتی نڑاد 42 سالہ سوناک کی حمایت کریں گے۔سٹہ بازار میں بھی رشی سوناک سب سے پسندیدہ امیدوار قرار دیئے جا رہے ہیں۔رشی سوناک کے ساتھ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی کے بہت سارے ممبران ان کے سابقہ رویے سے ناراض ہیں۔ جب انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے نتیجے میں سابق رہنما بورس جانسن کے خلاف بغاوت کا سلسلہ شروع ہو گیا اور بالآخر انہیں وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنا پڑا۔
پارٹی کے بہت سے اراکین، پارٹی امور میں جن کی رائے کو حرف آخر سمجھا جاتا ہے، رشی سوناک کو ان کے سابقہ رویے کے لیے معاف کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ایک حالیہ یو گو پول کے مطابق 58 سالہ جانسن ٹرس سے کہیں زیادہ مقبول ہیںایک حالیہ یو گو پول کے مطابق 58 سالہ جانسن ٹرس سے کہیں زیادہ مقبول ہیںبرطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق بورس جانسن جو فی الوقت بیرون ملک میں چھٹیاں گزار رہے تھے، ہفتے کے روز وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔ وہ لزٹرس کے جانشین کی دوڑ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔متعدد تنازعات کے سبب وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے مجبور ہوجانے والے بورس جانسن نے مستعفی ہوتے وقت بھی ایسے اشارے دیے تھے کہ وہ جلد ہی دوبارہ اپنا عہدہ واپس لینے کی کوشش کریں گے۔ تاہم کسی کو یہ توقع نہیں تھی کہ انہیں اس کا موقع اتنی جلد مل جائے گا۔
روس کو مہلک ڈرونز مہیا کرنے پر ایران پربرطانیہ کی پابندیاں عائد
لندن ، 21اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)برطانیہ نے یوکرین میں شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے روس کو ڈرون مہیا کرنے پرایران کی تین فوجی شخصیات اور ایک دفاعی اسلحہ ساز ادارے پرپابندیاں عاید کردی ہیں۔برطانیہ کے دفترخارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے تین اعلیٰ فوجی افسروں محمد حسین باقری، سیّد حجۃ اللہ قریشی اور سعید آغاجانی کے اثاثے منجمد کیے جارہے ہیں اور ان پرسفری پابندی عاید ہوگی۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ تینوں شخصیات یوکرین میں حملوں میں استعمال ہونے والے ڈرونز روس کو مہیّا کرنے کی’ذاتی طور پرذمہ دارہیں۔دفترخارجہ کا مزید کہنا ہے کہ برطانیہ شاہد ڈرونزبنانے والی ایرانی کمپنی شاہد ایوی ایشن انڈسٹریز کے اثاثے بھی منجمد کرلے گا۔
برطانوی وزیرخارجہ جیمزکلیورلی نے کہا ہے کہ یوکرین کے خلاف صدرولادی میرپوتین کی وحشیانہ اورغیرقانونی جنگ کی ایران کی طرف سے حمایت قابل مذمت ہے۔ یہ عالمی سلامتی میں ایران کے عدم استحکام پیدا کرنے والے کردار کا واضح ثبوت ہے۔روس نے گذشتہ سوموار کویوکرین کے دارالحکومت کیف پر درجنوں تباہ کن ڈرون داغے تھے۔ان سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تھا اوران حملوں میں پانچ افرادہلاک ہوگئے تھے۔یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ ایرانی ساختہ شاہد۔136 لڑاکا ڈرون تھے۔ایران نے روس کو ڈرون مہیّا کرنے کی تردید کی ہے۔کریملن نے منگل کے روز اس بات کی تردید کی تھی کہ اس کی افواج نے یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے ایرانی ڈرونز کا استعمال کیا تھا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے انکار ایک سفید جھوٹ ہے۔



