کویت سٹی ، 22فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کویت میں خواتین کے حقوق کے سلسلے میں ایک اورجھگڑا اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایک یوگا انسٹرکٹر نے اس ماہ کویت کے صحرا میں یوگا کے ایک تفریحی ایونٹ کا اشتہار دیا۔
اسے اسلام پر حملہ قرار دیاگیا ہے۔ کئی قانون سازوں اور مذہبی رہنماؤں نے خواتین کے لیے برسر عام یوگا کرنے کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے اس پر ایک ہنگامہ کھڑا کردیا۔ اور نتیجتاً حکام کو اس پر پابندی لگانے پر مجبورہونا پڑا۔
یوگا پر اٹھنے والا یہ تنازع کویت میں خواتین کے حقوق پر طویل عرصے سے جاری ثقافتی جنگ میں تازہ ترین ہے، جہاں ایک منقسم معاشرے میں خواتین کے رویے کے بارے میں قبائل اور اسلام پسندوں کو بڑھتی ہوئی طاقت حاصل ہے۔
قدامت پسند سیاست دان ابھرتی ہوئی تحریک نسواں کو کویت کی روایتی اقدار کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور مزاحمت کر رہے ہیں۔تحریک نسواں کی سرگرم کارکن نجیبہ حیات نے کویتی پارلیمنٹ کے باہر اس مقام سے، جہاں خواتین دھرنا دے رہی ہیں، ایسو سی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ہماری ریاست اتنی رفتار سے پیچھے کی طرف جا رہی ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔
خواتین بڑی تعداد میں اس پارک میں آتی ہیں جہاں دھرنا ہوتا ہے۔ اور آزادی کے لیے نعرے لگاتی ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ حکام مستقل اسیسلب کر رہے ہیں۔کویت والوں کے لیے یہ ایک ایسے ملک میں پریشان کن رجحان ہے، جو کبھی اپنے عرب پڑوسیوں کے مقابلے میں اپنی ترقی پسندی پر فخر کرتا تھا۔
تاہم حالیہ برسوں میں خواتین نے قدامت پسند خلیجی خطے میں بڑی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ سعودی عرب میں جہاں انہیں پہلے کوئی آزادی حاصل نہیں تھی، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلطان کے دور میں جو عملاً وہاں حکمراں ہیں، بڑی تبدیلیاں آ ئی ہیں۔سعودی عرب میں تو گزشتہ ماہ پہلا اوپن ایئر یوگا فیسٹیول بھی منعقد ہوا، جسے سوشل میڈیا پر کویت میں بھی دیکھا گیا۔



