بین الاقوامی خبریں

کیا خلاباز سلطان النیادی خلا میں قیام کے دوران روزے رکھیں گے؟

26 فروری کو ’اسپیس فالکن 9‘ راکٹ پربین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کے لیے روانہ ہو نگے

دبئی، 4فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) 41 سالہ سلطان النیادی، جنہیں پیار سے خلا کا سلطان کا خطاب دیا  گیا ہے، 26 فروری کو ’اسپیس فالکن 9‘ راکٹ پربین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کے لیے روانہ ہو نگے۔اس سلسلے میں النیادی جب 2 فروری کو دبئی میں پریس کانفرنس کرنے پہنچے تو رپورٹرز نے اان سے متعدد سوالات اس بارے میں پوچھے کہ آیا وہ خلا میں اپنے قیام کے دورن روزے رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس برس رمضان کے مہینے کا آغاز مارچ کے چوتھے ہفتے میں ہوگا۔یعنی خلائی اسٹیشن پر ان کی آمد کے تقریب ایک ماہ بعد۔اس پریس کانفرنس کے بارے میں بتایا ہے کہ النیادی نے کہا کہ وہ زمین کے مدار کی گردش کے دوران رمضان کے مقدس مہینے کا مشاہدہ کرنا چاہیں گے، جب مسلمان طلوع آفتاب ے غروب آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔لیکن خلائی سفر منفرد چیلنجز پیش کرتا ہے۔

جیسا کہ النیادی نے دبئی میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ خلائی اسٹیشن تیزی سے سفر کرتا ہے، یعنی یہ 90 منٹ میں زمین کے گرد چکر پورا کرلیتا ہے۔انہوں نے کہا اس طرح یومیہ اوسطاً 16 طلوع آفتاب اور غروب آفتاب ہوتے ہیں، آپ کب (شروع اور) افطار کرسکتے ہیں؟بہرحال النیادی نے کہا کہ اگر حالات اجازت دیں تو وہ GMT وقت کے مطابق روزہ رکھ سکتے ہیں، جو خلائی اسٹیشن پر استعمال ہوتا ہے۔بعض صورتوں میں روزہ رکھنا لازمی نہیں ہے، بشمول ان لوگوں کے لیے جو سفر میں ہیں یا بیمار ہیں۔

النیادی نے کہا کہ میں رمضان کے مہینے کی تیاری روزہ رکھنے کی نیت سے کروں گا۔2019 میں حزاء المنصوری کے آٹھ روزہ مشن کے بعد وہ خلاء میں جانے والے متحدہ عرب امارات سے دوسرے شخص بن جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سفر کے دوران وہ چاند اور مریخ پر مستقبل کے مشن کی تیاری میں انسانی جسم پر مائیکرو گریوٹی کے اثرات کا مطالعہ کریں گے۔

متحدہ عرب امارات کی فوج میں 20 سال خدمات انجام دینے والے النیادی کے لیے یہ پہلے ہی ایک طویل سفر رہا ہے۔انہوں نے برطانیہ میں الیکٹرانکس اور کمیونی کیشن انجینئرنگ کی بھی تعلیم حاصل کی، اور پھر آسٹریلیا کی گریفتھ یونیورسٹی میں ڈیٹا لیکیج کی روک تھام کی ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کی۔متحدہ عرب امارات خلائی تحقیق کی دنیا میں ایک نووارد ہے لیکن تیزی سے اپنی شناخت بنا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button