مقبوضہ بیت المقدس:(ایجنسیاں)قابض صہیونی ریاست نے مسجد اقصیٰ کے امام اور خطیب اور سردکرہ فلسطینی عالم دین الشیخ عکرمہ صبری کے بیرون ملک سفر پرچار ماہ کی پابندی عاید کردی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک نوٹس اسرائیلی انٹیلی جنس حکام کے ذریعے 82 سالہ الشیخ عکرمہ صبری تک پہنچایا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ الشیخ صبری کو آئندہ چار ماہ تک بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں۔اس نوٹس سے قبل الشیخ عکرمہ صبری نے مسجد اقصیٰ میں مداخلت پر اسرائیلی ریاست کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ قابض اسرائیلی ریاست کی طرف سے بیت المقدس فلسطینی نمازیوں اور روزہ داروں پر مسجد اقصٰی میں داخلے پرپابندیاں ناقابل قبول ہیں۔ اگر القدس کے باشندوں پر دبائو برقرار رہا تو حالات آتش فشاں بن کر پھٹ سکتے ہیں اور اس کی تمام تر ذمہ داری اسرائیلی ریاست پرعائد ہوگی۔ایک بیان میں الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں کو قابض ریاست کے غرور اور گھمنڈ کا سامنا ہے۔ جیسے جیسے صہیونی ریاست کے غرور میں اضافہ ہوتا ہے ایسے ایسے بیت المقدس کے باشندوں کی ثابت قدمی بڑھتی ہے۔ القدس کے فلسطینی باشندے مسجد اقصیٰ کیدفاع اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے زیادہ موثر طریقے سے کوششیں کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کے فلسطینیوں کے حوصلے پست کرنے کی تمام سازشیں ناکام رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کے فلسطینیوں کو ماہ صیام کے موقعے پر مسجد اقصیٰ میں داخلے اور عبادت سے روکنا۔ نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنانا اور انہیں گرفتار کرنا فلسطینیوں کی مذہبی آزادیاں سلب کیے جانے کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ کے لائوڈ اسپیکروں کی تاریں کاٹنے کی مذمت کی اور کہا کہ اسرائیلی ریاست مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کی آمدو رفت اور عبادت کو اپنے لیے خطرے کا باعث سمجھتی ہے۔الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ باب العامود،باب الساھرہ، شاہراہ صلاح الدین اور بیت المقدس کے دیگر تمام اہم مقامات پر فلسطینیوں اور قابض دشمن کے درمیان ہونیوالی جھڑپوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ القدس کے فلسطینی ہرقیمت پر قبلہ اول کے دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں پر دباو ڈالنے کے لیے القدس کے شہریوں کو گرفتار کرنے اور انہیں تشدد کرکے زخمی کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔ چند روز کے دوران بیت المقدس سے 30 روزہ دار گرفتار اور 270 زخمی ہوچکے ہیں۔



