
تہران:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق امیدواروں میں موجودہ چیف جسٹس ابراہیم رئیسی، سابق جوہری مذاکرات کار سعید جلیل، پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی، ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی، پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر عامر حسین غازی زادہ، سابق نائب صدر مہر علی زادہ اور سابق قانون ساز علی رضا زکانی شامل ہیں۔ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق گارڈین کونسل (شوریٰ نگہبان) کے ترجمان عباس علی کدخدائی نے بتایا ہے کہ جون میں ہونے والے صدارتی انتخاب لڑنے کے خواہش مند 590 امیدواروں میں سے صرف ان سات امیدواروں کو الیکشن لڑنے کا اہل قرار دیا گیا ہے۔
ایران میں ہر چار سال بعد صدر کا انتخاب کیا جاتا ہے جس کے امیدواروں کی منظوری شوریٰ نگہبان دیتی ہے۔صدر کا انتخاب براہِ راست عوام کی ووٹنگ سے ہوتا ہے۔ ایران میں 18 برس کی عمر کے شہری ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ اس سے قبل 2007 تک ایران میں ووٹ ڈالنے کی کم سے کم عمر 15 سال تھی جسے دنیا میں ووٹنگ کے لیے سب سے کم عمر قرار دیا جاتا تھا۔ایران میں صدر کا الیکشن بظاہر دنیا کے دیگر صدارتی انتخابات کی طرح معلوم ہوتا ہے۔
لیکن اس میں امیدواروں کی حتمی فہرست کے اجرا، ان کی اہلیت اور مختلف اداروں کے اختیارات کی بہت سی تفصیلات اور طریقہ کار باقی دنیا سے خاصے مختلف ہیں۔ایران کے آئین کے آرٹیکل 114 کے مطابق صدر ایک مذہبی و سیاسی شخص ہونا چاہیے جو ایران کا شہری ہو۔ اس کے علاوہ صدر کو امانت دار اور متقی یعنی مذہبی احکامات کا پابند اور ایران کے سرکاری مذہب یعنی اسلام کا ماننے والا ہونا چاہیے۔ آئین میں بیان کی گئی ان بنیادی شرائط کے علاوہ الیکشن قوانین میں بھی امیدواروں کے لیے کئی دیگر شرائط بیان کی گئی ہیں جن کا تعین شوریٰ نگہبان کی جانب سے کیا جاتا ہے۔
آئین کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر (رہبرِ اعلیٰ) کی ہدایت پر شوریٰ نگہبان صدارتی امیدواروں کے لیے قواعد و ضوابط جاری کرنے کی مجاز ہے۔ اس سال یکم مئی کو شوریٰ نے کچھ ترامیم کے ساتھ یہ ضوابط جاری کیے تھے۔شوریٰ کے ’تہران ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے بیان کے مطابق صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند شخص کے لیے مذہبی علوم اور شیعہ عقائد کا مناسب علم ہونا ضروری ہے۔
امیدواروں کے لیے ریاستی اداروں میں کام کرنے کا کم سے کم چار برس کا تجربہ اور 20 لاکھ سے زائد آبادی والے شہروں کے گورنری یا وزارت پر فائز رہنے کی شرط بھی عائد کی گئی۔اس کے علاوہ مسلح افواج میں میجر جنرل یا اس سے زیادہ رینک کے افسران اور مجرمانہ ریکارڈ نہ رکھنے والے اْمیدواروں کو بھی صدارتی الیکشن لڑنے کی رجسٹریشن کی اجازت دی گئی تھی۔قواعد کے مطابق انتخابات لڑنے کے خواہش مند افراد پہلے وزارتِ داخلہ میں اپنی رجسٹریشن کراتے ہیں اور بعد ازاں شوریٰ نگہبان حتمی امیدواروں کی فہرست جاری کرتی ہے۔
انتخاب میں حصہ لینے کے خواہش مندوں کے لیے ماسٹرز کی ڈگری کو بھی لازمی قرار دیا گیا تھا۔ اس بار صدارتی امیدواروں کے لیے 40 سے 70 سال کی عمر متعین کی گئی۔شوریٰ نگہبان کی جانب سے جاری ہونے والے قواعد و ضوابط میں امیدواروں کی کم سے کم عمر 40 برس رکھنے پر ایران کے سبک دوش ہونے والے صدر حسن روحانی نے بھی تنقید کی۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق حسن روحانی نے شوریٰ کی جانب سے عمر کی متعین ہونے کے بعد وزارتِ داخلہ پر زور دیا کہ وہ امیدواروں کی رجسٹریشن کے دوران اس شرط کو نظر انداز کر دیں۔بعض مبصرین کے مطابق عمر کی حد میں ترمیم حسن روحانی کی کابینہ میں شامل اطلاعات کے وزیر 39 سالہ محمد جواد ا?ذری جھرمی کو انتخابات سے روکنے کے لیے کی گئی ہے۔



