بیجنگ ،10نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چین کے جنوب مغربی شہر چھنگژو کے حکام نے ایک بڑے تفریحی مرکز میں 30 ہزار لوگوں کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا ہے اور جو لوگ ٹیسٹ نہیں کروا رہے تھے انہیں موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سرکاری میڈیا، چائنہ سینٹرل ٹیلی ویڑن (سی سی ٹی وی)، نے رپورٹ کیا تھا کہ نیو سنچری گلوبل سینٹر، جس میں متعدد دکانیں، دفاتر اور ایک بڑا واٹر پارک اور یونیورسٹی ہے، میں کیے جانے والے تمام ٹیسٹ کے نتائج منفی آئے ہیں۔چھنگژو میں مقامی حکام نے ایک نوٹس میں کہا ہے کہ جو لوگ ٹیسٹ کے وقت وہاں موجود تھے، انہیں نتائج کا انتظار کرنے اور گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
تاہم یہ بات واضح نہیں تھی اس وقت نیو سنچری گلوبل سینٹر میں کتنے لوگ موجود تھے۔ یہ سینٹر جو کہ 17 لاکھ سکوائر میٹر کی اراضی پر مشتمل ہے، ویٹی کن سٹی جیسے چار شہروں جتنا بڑا ہے۔سی سی ٹی وی کے مطابق کچھ لوگ عارضی طور پر کنٹرول کیے جانے والے اس علاقے کو بغیر اجازت چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ تام انہیں ٹریکنگ سروس نے ڈھونڈ کر ان کا ٹیسٹ کر دیا۔
واضح رہے کہ اکتوبر کے آخر میں شنگھائی ڈزنی لینڈ میں بھی بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ ہوئی تھی۔شنگھائی ڈزنی لینڈ نے چینی سوشل میڈی اکاؤنٹ پر بتایا تھا کہ پارک میں موجود لوگوں کو باہر نکلتے وقت کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروانے کا کہا گیا تھا۔
کورونا وائرس کی تحقیقات کے لیے حکام کے ساتھ تعاون کرنے شنگھائی ڈزنی لینڈ کچھ دنوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ چین میں کورونا وائرس کے خلاف ’زیرو ٹولرنس‘ پالیسی اختیار کی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ حکام کسی بھی ایسی بات کو نظر انداز نہیں کررہے ہیں جس سے وائرس کے پھیلنے کا تھوڑا سا بھی خدشہ ہو۔
دو کروڑ افراد کے شہر چھنگژو میں حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔



