بین الاقوامی خبریں
سارہ شریف کی 25 ہڈیاں ٹوٹی تھیں، برطانوی عدالت میں ٹرائل کے دوران انکشاف
دس سالہ برٹش پاکستانی سارہ شریف کے قتل کیس میں خاندان کے تین افراد کے خلاف مقدمے کی کارروائی کے دوران مقتولہ
سارہ شریف کی 25 ہڈیاں ٹوٹی تھیں، برطانوی عدالت میں ٹرائل کے دوران انکشاف
لندن ، 2نومبر (ایجنسیز)
دس سالہ برٹش پاکستانی سارہ شریف کے قتل کیس میں خاندان کے تین افراد کے خلاف مقدمے کی کارروائی کے دوران مقتولہ بچی پر تشدد کی ہولناک تفصیلات سامنے آئی ہیں۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اگست 2023 میں سارہ شریف جنوبی انگلینڈ کے علاقے ووکنگ میں اپنے گھر کے بیڈ پر مردہ پائی گئی تھیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق مقتولہ بچی کے جسم پر جلائے جانے، کاٹے جانے کے نشانات کے علاوہ ہڈیاں بھی ٹوٹی پائی گئیں۔سارہ شریف کی لاش ملنے کے بعد برطانوی پولیس نے ملزمان کی تلاش کے لیے پوری دنیا میں رابطے کیے اور مقتولہ کے والدین کی گرفتاری کے لیے پاکستان سے بھی مدد طلب کی۔
مقتولہ بچی کے والد 42 سالہ عرفان شریف، سوتیلی والدہ بینش بتول اور چچا فیصل ملک کو ایک ماہ بعد اکتوبر میں برطانیہ واپس آنے پر جہاز سے ہی حراست میں لیا گیا تھا اور وہ اب مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ تینوں نے عدالت میں الزامات ماننے سے انکار کیا ہے۔لندن کی اولڈ بیلے کورٹ کو مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ دس سالہ سارہ شریف کی ہڈیاں میں 25 فریکچر تھے جن میں گردن کی ہڈی بھی شامل تھے۔پتھالوجسٹ اور ہڈیوں کے اسپیشلسٹ انتھونی فریمونٹ نے جیوری کو بتایا کہ مقتولہ بچی کے ’گردن پر دباؤ‘ کے نشانات تھے جو عام طور پر ہاتھ سے گلہ دبانے کے بعد ہوتے ہیں۔
مقتولہ بچی کے والد 42 سالہ عرفان شریف، سوتیلی والدہ بینش بتول اور چچا فیصل ملک کو ایک ماہ بعد اکتوبر میں برطانیہ واپس آنے پر جہاز سے ہی حراست میں لیا گیا تھا اور وہ اب مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ تینوں نے عدالت میں الزامات ماننے سے انکار کیا ہے۔لندن کی اولڈ بیلے کورٹ کو مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ دس سالہ سارہ شریف کی ہڈیاں میں 25 فریکچر تھے جن میں گردن کی ہڈی بھی شامل تھے۔پتھالوجسٹ اور ہڈیوں کے اسپیشلسٹ انتھونی فریمونٹ نے جیوری کو بتایا کہ مقتولہ بچی کے ’گردن پر دباؤ‘ کے نشانات تھے جو عام طور پر ہاتھ سے گلہ دبانے کے بعد ہوتے ہیں۔
مقتولہ کے جسم پر درجنوں دیگر نشان بھی تھے جن میں خراشیں اور جلنے کے نشانات شامل ہیں۔ اسی طرح کرکٹ کے ایک بیٹ اور ایک بیلٹ پر بھی سارہ شریف کا ڈی این اے پایا گیا جبکہ ان پر عرفان شریف اور فیصل ملک کے ڈی این اے بھی پائے گئے۔دس سالہ بچی کا خون ایک کیرئیر بیگ کے اندر بھی پایا گیا جس سے یہ مطلب اخذ کیا جا رہا ہے کہ اس کے سر پر رکھا گیا تھا۔ مقتولہ کا خون اور بال ایک براو?ن ٹیپ کے ٹکڑے پر بھی پائے گئے۔جیوری کو بتایا گیا کہ مقتولہ کی سوتیلی والدہ نے اپنے دانتوں کے کاٹے کا نمونہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔پچھلی سماعتوں کے دوران عدالت کو بتایا گیا تھا کہ سوتیلی والدہ نے اپنی بہن کو واٹس ایپ پر بھیجے گئے پیغامات میں کہا کہ عرفان شریف نے سارہ کو ’بدتمیزی اور باغیانہ پن‘ پر مارا پیٹا۔
پراسیکیوٹر ولیم ایملن نے جمعے کو عدالت میں بتایا کہ موت سے چار ماہ قبل سارہ شریف نے اپنے اسکول میں بتایا تھا کہ اُس کو فوری طور پرگھر پر ہی پڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تقریبا اسی عرصے میں یہ خاندان ویسٹ بے فلیٹ سے کچھ فاصلے پر ووکنگ کے علاقے میں منتقل ہو گیا تھا۔اس دوران سکول میں اساتذہ نے سارہ شریف کے جسم پر تشدد کے نشانات دیکھے۔
یہ جون 2022 اور مارچ 2023 کی بات ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ جب سارہ شریف سے سکول میں ان نشانات کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب میں بچی نے اپنا سر بازؤں میں چھپا لیا اور کوئی بات نہ کی۔جیوری کے سامنے سارہ شریف کے اساتذہ نے مقتولہ کے حوالے سے بات کی اور اس کے جسم پر دیکھے گئے تشدد کے نشانات کی گواہی ریکارڈ کرائی۔مقدمے کی کارروائی کے دوران عدالت میں شیشے کی دیوار کے دوسری طرف تینوں ملزمان سر جھکائے بیٹھے دیکھے گئے۔
یہ جون 2022 اور مارچ 2023 کی بات ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ جب سارہ شریف سے سکول میں ان نشانات کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب میں بچی نے اپنا سر بازؤں میں چھپا لیا اور کوئی بات نہ کی۔جیوری کے سامنے سارہ شریف کے اساتذہ نے مقتولہ کے حوالے سے بات کی اور اس کے جسم پر دیکھے گئے تشدد کے نشانات کی گواہی ریکارڈ کرائی۔مقدمے کی کارروائی کے دوران عدالت میں شیشے کی دیوار کے دوسری طرف تینوں ملزمان سر جھکائے بیٹھے دیکھے گئے۔



