بین الاقوامی خبریں

شامی اپوزیشن گروپ حمص شہر پر حملے کی راہ ہموار کرنے میں مصروف

اپوزیشن گروپ شاہین ڈرون طیاروں کے ذریعے شہر پر حملے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

دمشق؍دبئی،7دسمبر (ایجنسیز) شام میں مسلح اپوزیشن گروپوں کے اس اعلان کے ساتھ کہ وہ حمص کے وسطی حصے کے قریب پہنچ گئے ہیں، شہر کی فضاؤں میں ڈرون طیاروں کے جھنڈ دیکھے گئے۔ ذرائع نے آج ہفتے کے روز بتایا کہ اپوزیشن گروپ شاہین ڈرون طیاروں کے ذریعے شہر پر حملے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ھیئۃ تحریر الشام تنظیم نے گذشتہ شام ٹیلی گرام پر اپنی پوسٹ میں بتایا تھا کہ اس کی فورسز نے حمص شہر کے کنارے آخری گاؤں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس سے قبل اپوزیشن گروپوں نے حمص صوبے کے شمالی دیہی علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

ان گروپوں نے شامی فوج کے عناصر پر زور دیا ہے کہ وہ منحرف ہو جائیں اس لیے کہ یہ ان کے پاس آخری موقع ہے۔اپوزیشن گروپوں کے حمص پر قبضے کا مقصد دار الحکومت دمشق کو شامی ساحل سے منقطع کرنا ہے جہاں علوی فرقے نے قدم جما رکھے ہیں۔شامی صدر بشار الاسد کا تعلق اسی فرقے سے ہے۔ یہاں روس کے بحری اور فضائی اڈے بھی واقع ہیں۔اس وجہ سے بہت سے تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ لڑائی آسان نہیں ہو گی بلکہ وہ اسے حقیقی معرکہ قرار دے رہے ہیں۔ادھر ایک شامی فوجی ذریعے نے باور کرایا ہے کہ حمص کے شمال سے اپوزیشن گروپوں کی کسی بھی پیش قدمی کو ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کی فورس کا سامنا ہو گا۔

یہ فورس وہاں سرکاری فوج کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے تعینات ہے۔اس سے قبل اپوزیشن گروپوں نے شام کے جنوب میں درعا اور السویداء کا کنٹرول سنبھال لیا۔دوسرہ جانب کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے دیر الزور صوبے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ملک کے مشرقی حصے میں واقع صحائی علاقوں میں یہ بشار حکومت کی توجہ کا مرکز ہے۔ اسی طرح ایس ڈی ایف نے جمعے کے روز عراق کے ساتھ سرحد پر البوکمال گزر گاہ پر بھی قبضہ کر لیا۔

امریکی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی کے مطابق داعش تنظیم نے شام کے مشرق میں بعض علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور یہ بات تشویش کا باعث ہے۔شامی اپوزیشن کے مسلح گروپوں نے گذشتہ ہفتے ادلب سے اچانک حملے کی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ چند روز میں انھوں نے پورے حلب شہر پر کنٹرول حاصل کر لیا اس کے بعد وہ حماہ شہر اور حمص کے دیہی علاقے میں بھی داخل ہو گئے۔بعض رپورٹوں میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اپوزیشن گروپوں نے شام میں 20 ہزار مربع کلو میٹر کے رقبے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ شام کا مجموعی رقبہ 1.85 لاکھ مربع کلو میٹر ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button