بین الاقوامی خبریںسرورق

غزہ جنگ بندی معاہدہ۔7 اسرائیلیوں کے عوض 1000فلسطینیوں کی رہائی

غزہ معاہدے کے ضمن میں حماس نے السنوار کی میت کا مطالبہ کیا 

دوحہ،14جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری غزہ جنگ بندی معاہدے کے مندرجات سامنے آگئے ہیں جن کا باضابطہ اعلان رواں ہفتے کے اختتام پر کیا جائے گا۔یروشلم پوسٹ نے جنگ بندی مذاکرات میں شامل ایک فلسطینی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت ڈیل کے پہلے روز حماس 3 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گا جب کہ اس کے اگلے ہفتے مزید 4 یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔مجموعی طور پر حماس 34 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گا۔اس کے بدلے میں اسرائیل نے حماس کی جانب سے فراہم کی گئی فہرست کے مطابق ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ان فلسطینی قیدیوں میں 190 ایسے ہیں جو 15 برس سے زیادہ عرصے سے اسیری کاٹ رہے ہیں۔چند یرغمالیوں کی رہائی کے فوری بعد سے ہی اسرائیل فلسطینی علاقوں سے اپنے فوجیوں کا انخلا شروع کر دے گا اور جنوبی علاقے میں بے گھر فلسطینیوں کو شمال کی طرف سفر کرنے کی اجازت دے گا۔

اس معاہدے کے تحت اسرائیلی فورسز کے پاس فلاڈیلفی کوریڈور میں 800 میٹر کے بفر زون کا انتظام ڈیڑھ ماہ تک برقرار رہے گا۔معاہدے کے پہلے مرحلے کے مکمل ہونے میں 16 دن لگ جائیں گے جس کے بعد دوسرے اور تیسرے مرحلے میں بیک وقت ڈیل جاری رکھنے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔اس رپورٹ کے سامنے آنے سے کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ ہم اس تجویز (جنگ بندی معاہدے) کے ہونے کے دہانے پر ہیں جس کی تفصیلات مہینوں پہلے پیش کی تھی بالآخر اب نتیجہ خیز ہو گیا۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹ کوف یرغمالیوں کے معاہدے کے بارے میں بات کرنے کے لیے پہلے ہی دوحہ جا چکے ہیں۔اس سے قبل امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ حماس کو دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ان کے حلف اُٹھانے سے قبل یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا تو قیامت ٹوٹ پڑے گی۔

غزہ معاہدے کے ضمن میں حماس نے السنوار کی میت کا مطالبہ کیا

فلسطینی تنظیم حماس نے غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے معاہدے کے تحت قیدیوں کے تبادلے کے پہلے مرحلے کے ضمن میں تنظیم کے سابق سربراہ یحییٰ السنوار کی میت حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اسرائیل ابھی تک وساطت کاروں کے ساتھ السنوار کے بھائی کو غزہ سے دور کرنے کے معاملے پر مشاورت کر رہا ہے۔ وہ کئی قیدیوں کو کم از کم 5 برس کے لیے بے دخل کرنا چاہتا ہے۔ذرائع کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں فوری طور پر حالات بہتر بنانے پر اتفاق ہو گیا ہے۔دوسری جانب ایک اسرائیلی سیاسی ذریعے نے واضح کیا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے میں یحییٰ السنوار کی میت حماس کے حوالے نہیں کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button