سیاسی و مذہبی مضامین

ہندوستان سے مسلمانوں کا صفایا کیسے کیا جائے؟ محمد غــزالی خان

ہندوستان میں مسلمانوں کا مستقبل اور اسپین کی تاریخ سے سبق

گجرات میں 2002 میں مسلمانوں کی نسل کشی کے دوران اور اس کے بعد شمالی ہند کے مسلمانوں کو اکثریہ کہتے سنا گیا تھا کہ ایسے حالات شمالی ہند میں کبھی نہیں ہو سکتے۔ اللہ معاف کرے، اس جملے میں گجراتی مسلمانوں کے تئیں کسی قدر تحقیر کا پہلو بھی ہوتا تھا۔ مگر مظفرنگر میں ہماری آنکھوں کے سامنے گجرات دوہرایا گیا اور ہم بے بسی کے عالم میں سب کچھ دیکھتے رہے۔ اللہ نہ کرے ہمیں دوبارہ ایسے حالات دیکھنا پڑیں مگر بظاہر حالات بہتر ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔

مجھے یہ بھی یاد ہے جب تقریباً ۲۰ سال پہلے راج شیکھر شیٹی نے دلت وائس میں ایک مضمون شائع کیا، جس میں ہندوستان اور اسپین کے حالات کا موازنہ کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ یہاں اسپین دہرائے جانے کی تیار کی جا چکی ہے، تو مجھ سمیت بہت سے مسلمانوں نے اسے سنسنی خیز خبر پر محمول کیا تھا۔

آج بھی ہندوستانی مسلمانوں کی بڑی تعداد اپنے آپ کو خود فریبی میں مبتلا کرنے کی پرانی روش پر قائم ہے۔ ان کی دلیل اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے کہ ہندوستان کے ۲۰ کروڑ مسلمانوں کا صفایا نہیں کیا جا سکتا۔ جی ہاں ۲۰ کروڑ کی وہی بے جان بھیڑ جس کی حیثیت ایک ریوڑ سے زیادہ نہیں جس میں سے قصائی اپنی من پسند بھیڑ پکڑ کر لے جاتا ہے اور ذبح کرڈالتا ہے اور باقی بھیڑیں اس کا ڈالا ہوا چارہ کھانے میں مست رہتی ہیں۔


دور دراز کے علاقے تو چھوڑئیے، لاک ڈاؤن سے قبل دہلی میں ہونے والے حالیہ فسادات میں مسلمانوں پر جو ظلم ہوا اور جس طرح الٹا انہیں کو مجرم بھی بنادیا گیا، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اسی دارالحکومت میں ہماری آنکھوں کے سامنے لنچنگ (ہجومی تشدد) کے واقعات کے علاوہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ سے کچھ ہی فاصلے پر جے این یو کے طالب علم نجیب احمد کو 25 اکتوبر 2016 کو غائب کردیا گیا۔

اپنے بیٹے کے بارے میں بتائے جانے کی درخواست لے کر ہر در کی ٹھوکریں کھا کر تھک جانے اور نا امید ہوجانے کے بعد اس کی غمزدہ ماں اپنا غم لئے اپنے گھر پر جا کر بیٹھ گئی ہے۔ اس سے پہلے مرادآباد، ہاشم پورہ اور دیگر بڑے فسادات میں معصوموں کو مجرم بنایا جانا اورمجرموں کا صاف بچ جانا بھی ہمارے سامنے ہے۔


سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ یہ سب دیکھنے کے بعد کس طرح اندیکھی کررہے ہیں اور اپنے آپ کو دھوکہ دئیے چلے جا رہے ہیں۔ ذیل میں راج شیکھر شیٹی صاحب کے انگریزی میں لکھے گئے چشم کشا اور فکر انگیز مضمون کا اردو ترجمہ شائع کیا جارہا ہے۔

یہ مضمون دلت وائس، 16-31 مئی، 1999، میں شائع ہوا تھا جس میں راج شیکھر صاحب نے لکھا تھا:
"اس وقت تو محض بیج بوئے جا رہے ہیں فصل کاٹے جانے کا وقت تو ابھی آنا ہے۔ اور فصل کاٹے جانے کے وقت ہندوستان میں جو کچھ کاٹا جا رہا ہوگا وہ وہی ہوگا جو اسپین میں ہوچکا ہے”۔

پڑھئے اور غور کیجئے۔


مسلمانوں نے اسپین پر 721 بعد از مسیح سے 1492 بعد از مسیح یعنی 780 سال تک حکومت کی۔ اس کے باوجود آج اسپین میں مسلمانوں کا وجود نہیں ہے۔

حالانکہ وہاں تمام شعبہ ہائے زندگی پر اسلام کے اثرات ہیں۔ اسپین کی زبان میں دیگر یورپی زبانوں کی بہ نسبت عربی کے زیادہ الفاظ موجود ہیں، اس کی موسیقی پر عرب موسیقی کا اثر ہے، اس کی ثقافت پر یورپین تہذیب کے بجائے عرب ثقافت کی چھاپ ہے اور یہاں تک کہ عرب ناموں کی طرح یہاں ناموں کے شروع میں ’’ال‘‘ لگا ہوتا ہے۔

1492 سے جب غرناطہ میں مسلم سیاست کا آخری قلعہ مسمار ہوا تھا، اسپین میں مسلمانوں کے زوال کی داستان شروعات ہو گئی تھی اور 120 سال بعد 1612 میں یہ زوال یہاں سے با عمل مسلمانوں کے آخری قافلے کی روانگی کے ساتھ اپنی انتہا کو پہنچ گیا تھا۔ اس سال کے بعد اسپین کے افق سے اسلام بالکل غائب ہوگیا۔


ایک قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اسپین میں اسلام کی تنزلی کے اُس دور میں پوری مہذب دنیا پر مسلمانوں کی حکومت تھی۔ ترکی کی عثمانی خلافت قسطنطنیہ پر 1553 میں قبضہ کر چکی تھی اور جزیرہ نما بلقان کا تمام علاقہ اس کے زیر تسلط تھا۔

مصری مملوک طاقتور حکمران تھے۔ عباسیوں کے زیر حکمرانی ایران اپنے عروج پر تھا اور ہندوستان میں مغلوں کی حکومت تھی۔

اس کے باوجود اسپین کے مسلمانوں کو بچانے کیلئے ان عظیم افواج نے کچھ نہ کیا۔ اسپین میں اسلام کا خاتمہ کیسے ہوا؟ اس صدی کی 30 اور 40 کی دہائی میں ہندوستان کے ہندو فسطائیوں نے اس موضوع میں گہری دلچسپی لی تھی۔ انہوں نے اس کا مطالعہ اس غرض سے کیا تھا تاکہ ہندوستان میں اس کی نقل کی جا سکے۔


اسی کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں اسپین کی کہانی دوہرائے جانے کو روکنے کیلئے مسلمانوں نے اپنے طور پر اس کا مطالعہ کیا تھا کیونکہ سب سے بڑی اقلیت ہونے کی وجہ سے (1981 کی مردم شماری کے مطابق ان کا تناسب 11.35 ہے) وہ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کیلئے سب سے بڑا درد سر بن گئے ہیں۔ مگر ہندوستان کے مسلمان اسپین کی تاریخ اور اس کی بنیاد پر تیار کی جانے والی سازشوں سے لا علم ہیں۔

یہاں ہمارا مقصد اس موضوع پر کچھ روشنی ڈالنا ہے تاکہ مسلمانوں کا سنجیدہ طبقہ اور ان سے ہمدردی رکھنے والے افراد اس پہلو پر مزید تحقیق کرلیں۔


ہندوستان کی طرح اسپین کے مسلمانوں کی بھی تین اقسام تھیں:
1۔اصل عربوں کی اولادیں
2۔عرب باپوں اور اسپینی ماؤں کی اولادیں
3۔جنہوں نے عیسائیت چھوڑ کر اسلام قبول کرلیا تھا۔


سقوطِ غرناطہ کے بعد اپنی جانیں (دولت نہیں کیونکہ دولت لیجانے کی اجازت نہیں تھی) بچانے کیلئے اصل عرب تیونس اور مراکش چلے گئے۔ بہت سے عیسائی حملہ آوروں کے ہاتھوں مارے گئے۔

وہ عرب جنہوں نے اسپین میں رہنے کو ترجیح دی انہیں بالآخر ’’غیر ملکی‘‘ اور اسپین کو برباد کرنے والے قرار دے دیا گیا، (جیسا کہ ہندوستان میں کیا جارہا ہے)۔ دیگر مسلمان یعنی مسلمان باپوں اور عیسائی ماؤں کی اولادیں یا عیسائیت چھوڑ کر اسلام قبول کرنے والوں نے مکمل مذہبی آزادی دیے جانے کے شاہ فرنیڈانڈ کے اعلان پر یقین کرتے ہوئے اسپین میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

(ہندوستان میں بھی تو ہمیں یہی بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق حاصل ہیں)۔

شروع کے سالوں میں ان کی زندگی اور املاک پر حملوں کو عارضی رویہ قرار دے کر معاف کردیا جاتا تھا۔


اس کا موازنہ 1947 میں تقسیم کے حالات سے کیجیے۔ (یہ مضمون 1999 میں لکھا گیا تھا۔ اسپین میں مسلمانوں پر حملوں اور قاتلوں اور جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کا موازنہ گجرات، مظفر نگر اور مالیگاؤں میں مسلمانوں کے قاتلوں کی یکے بعد دیگرے رہائی اور حکومت وقت کے ذریعے انہیں نوازے جانے سے کیجیے — مترجم)۔

اسپین میں مسلمانوں پر حملے محض اُسی وقت شروع نہیں ہوئے بلکہ 50 سال بعد تک اس سے کم شدت کے ساتھ وقتاً فوقتاً جاری رہے۔ بالکل جس طرح آج ہندوستان میں ہو رہا ہے۔تقسیم کے بعد ابتدائی سالوں میں ہندوستانی مسلمانوں نے مزاحمت دکھائی اور حملہ آوروں کو جواب دیا۔ سڑکوں پر چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوئیں مگر آہستہ آہستہ یہ یک طرفہ حملوں میں بدل گئیں اور شکست مسلمانوں کی ہوئی۔اور اب تو ہندو پولیس کو مسلمانوں کے قتل کی کھلی چھٹی دے دی جاتی ہے۔

اسپین میں مسلمانوں پر مظالم کی داستان

اسپین میں جس وقت منظم عیسائی گروپ قتل عام کا بازار گرم کیے ہوئے تھے، فرنیڈانڈ کی حکومت مسلمانوں کا نوکریوں سے صفایا کرنے کیلئے مندرجہ ذیل طریقوں پر عمل پیرا تھی۔

انتظامیہ سے عربی زبان کو خارج کردیا گیا۔ جو اسکول مساجد سے منسلک تھے ان پر پابندی لگادی گئی کہ غیر مذہبی مضامین، مثلاً سائنس، تاریخ، ریاضی، اور فلسفہ نہ پڑھائیں۔ وہ صرف مذہبی تعلیم دے سکتے تھے۔


تاریخ کی تعلیم جھوٹے واقعات کی بنیاد پر دی جانے لگی جس میں مسلمان دور حکومت ظلم اور صفاکی کا دور بتایا گیا۔اسپین کی تعمیر میں مسلمانوں کے کردار کو یکسر نظر انداز کردیا گیا۔ہتھیار جمع کرنے اور خفیہ میٹنگوں کے انعقاد کے الزام کے بہانے مسلمانوں کے گھروں کی آئے دن تلاشی ہوتی تھی۔ نسلاً اصلی عربوں کے بارے میں مشہور کردیا گیا تھا کہ وہ ملک دشمن ہیں اور یہ کہ انھوں نے اسپین کو تباہ کیا ہے۔

اسپین میں مسلمانوں کا مذاق اڑایا گیا، ان کی تذلیل کی گئی اور ان پر مسلسل حملے کیے جاتے رہے۔ مسلمانوں کی معیشت برباد کرنے کیلئے ان کی دوکانوں اور مکانوں کو نظرِآتش کرنے کیلئے اسپین کے لوگوں کو ترغیب دی گئی۔ مسلمانوں کے عیسائیت قبول کرنے کی علامتی تقریبات منعقد کر کے ان کی تشہیر کی گئی۔

ہندوستان میں ہر طرح کے ہندو نازی آریہ سماج، راما کرشنا مشن، وشوا ہندو پریشد وغیرہ بالکل یہی کام انجام دے رہے ہیں۔ اسپین کے مسلمانوں کی پہلی دو نسلوں نے اپنے بچوں کو گھروں اور مساجد میں عربی پڑھا کر اور زبانی طور پر انہیں حقیقت سے روشناس کروا کر اپنے مذہب کی حفاظت کا غیر فعال طریقہ اختیار کیا، مگر آہستہ آہستہ ان کا جذبہ سرد پڑتا گیا۔


شادی اور مذہبی پابندیاں

جب یہ حکم نافذ ہوا کہ شادی صرف سرکاری اداروں کے ذریعے ہی کی جا سکے گی تو شروع میں مسلمان دو تقریبات منعقد کرتے رہے — ایک سرکاری ادارے میں اور دوسری اپنے گھروں پر اسلامی طریقے سے۔

آہستہ آہستہ دوسری تقریب پر پابندی عائد کر دی گئی اور گھروں میں منعقد کی جانے والی یہ تقاریب بھی غائب ہوگئیں۔ اس دوران مسلم قیادت کے ساتھ مسلمانوں کا رابطہ ختم ہوگیا اور مسلم اشرافیہ نے بڑی تعداد میں ترکی، تیونس، مراکش اور مصر کی جانب ہجرت کرلی، جہاں جذبہ ہمدردی کے ساتھ ان کا خیر مقدم کیا گیا۔

اسپین کے غریب مسلمانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ بالکل یہی سب کچھ ہندوستان میں ہورہا ہے۔


ہندوستان میں طبقاتی تقسیم اور مذہبی اثر

امیراور انگریزی تعلیم یافتہ مسلمان برہمنی اثر قبول کرتا جارہا ہے۔ اس نے اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی نقالی شروع کردی ہے کیونکہ وہ غریب مسلمان (جو 95% ہیں) بدحال بستیوں میں رہتے ہیں اور مراعت یافتہ طبقے کے مقابلے میں وہ اسلام پر زیادہ عمل کرتے ہیں۔ مسلم کش فسادات میں انہیں لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔


اسپین میں زوال اور قیادت کی ناکامی

اسپین میں جو بیج نصف صدی کے پہلے حصے میں بوئے گئے تھے، نصف صدی کے بعد ان کی فصل پوری طرح پک کر تیار ہوگئی تھی۔ اب مسلمانوں کی حفاظت کرنے کیلئے نہ کوئی قیادت باقی رہ گئی تھی اور نہ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی با بصیرت شخصیت۔

مذہبی قائدین، جنہیں دینیات کے علاوہ کسی اور چیز کا علم نہیں تھا، انہوں نے صورتحال سے نمٹنے کی بھرپور کوشش کی مگر حکومتی اداروں کے پروپیگنڈے، لالچ، عیسائیت قبول کرنے کے عوض پیشکشوں، اسلامی اقدار سے عوام کی ناواقفیت، اور منظم احساسِ کمتری کے سامنے علماء کی کوششیں ناکام رہیں۔


مسلم ممالک کی بے حسی

جب کچھ مسلمانوں نے ترکی اور مصر سے مدد لینے کی بات کی تو مسلمانوں ہی نے ان کی مخبری حکومت سے کی۔ مسلمانوں میں لڑنے کی خواہش نہ ہونے کے سبب کوئی مسلم ملک ان کی مدد نہ کر سکا۔

جو مسلمان ترکی اور مصر ہجرت کر چکے تھے، انہوں نے ان حکومتوں کو اسپین کے مسلمانوں کی مدد سے روکنے کا مشورہ دیا کیونکہ ان کے خیال میں اس سے مظالم میں مزید شدت آجاتی۔ انہیں ایک احمد شاہ ابدالی کی ضرورت تھی، مگر وہاں کوئی موجود نہ تھا۔

1612 میں اعتقاد کے لحاظ سے سخت سمجھے جانے والے مسلمانوں کا آخری قافلہ اسپین کو الوداع کہہ گیا۔


ہندوستان میں ’’تجربہ اسپین‘‘ کی تکرار

ہندوستان میں سیاسی قیادت اُن پارٹیوں کی دم چھلّا بن گئی جن کی قیادت اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے۔ صرف مولانا ابوالحسن ندوی نے ہندوستانی مسلمانوں کی ثقافتی شناخت کی حفاظت کی کوشش کی ہے۔

ہندوستان میں ’’تجربہ اسپین‘‘ پوری توانائی کے ساتھ اپنایا جا رہا ہے۔ اردو زبان جو ہندوستان میں اُتنی ہی اسلامی ہے جتنا اسپین میں عربی اسلامی تھی، کو ختم کیا جارہا ہے۔


مسلمانوں کے خلاف نفسیاتی جنگ

بنگلور میں ہونے والے عالمی تبلیغی اجتماع میں یہ صورتحال دیکھی گئی۔ عوام میں پہنچنے کے بجائے، مسلمان نفسیاتی اور جسمانی گوشہ نشینی کا سہارا لے رہے ہیں۔ مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر اٹھائے جانے والے کسی بھی قدم کو فرقہ واریت کا نام دیا جاتا ہے۔

کوئی مسلمان اگر اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی محبت کا ڈھونگ بھی کرے تو اسے ’’نیشنلسٹ مسلم‘‘ سمجھا جاتا ہے۔


تعلیم اور تاریخ سے مسلمانوں کو مٹانے کی کوشش

تعلیمی نصاب سے مسلم تاریخ خارج کر دی گئی۔ نامور مسلمان جنہوں نے ہندوستان کیلئے قربانیاں دیں، ان کے نام لینے سے گریز کیا جاتا ہے۔ ٹیپو سلطان جس نے ہندوستان کیلئے جان دی، نئی نسل اس کے نام سے بھی ناواقف ہے، جبکہ تاتیا ٹوپے اور لکشمی بائی جیسے کرداروں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

سائنس، طب، موسیقی یا بہادری کے میدان میں مسلمانوں کو انعامات سے محروم رکھا جاتا ہے۔


تاریخ نویسی اور مسلم دشمن پالیسی

تاریخ کو جھوٹ سے آلودہ کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف فوج، پولیس اور انتظامیہ کے دروازے بند ہیں۔ تعلیم، میڈیا اور سرکاری نوکریوں میں برہمنی سوچ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

اردو اسکولوں کو بند کیا جا رہا ہے، مسلم پرسنل لا کو ’’یکساں سول کوڈ‘‘ کے نام پر ختم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، جبکہ ہندو ثقافت کی بڑائی کا پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔


مسلمانوں کے خلاف منظم نفرت

مسلمانوں کے کاروبار جیسے گوشت اور امپورٹ ایکسپورٹ کو جرم قرار دیا جا رہا ہے۔ مسلم اکثریتی حلقوں کو تقسیم کر کے ان کا سیاسی اثر ختم کیا جا رہا ہے۔

ان حلقوں پر ایسے انتہا پسند ’’سیکولر‘‘ مسلم لیڈر مسلط کیے جا رہے ہیں جو گائے کی پرستش شروع کر چکے ہیں، اور ان مناظر کو ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے۔


انجام کا انتباہ: اسپین کی تاریخ دوہرائی نہ جائے

حکومت سے ناامید مسلم قائدین ہندوؤں پر انحصار کر رہے ہیں اور بھول گئے ہیں کہ اصل متاثر عوام ہیں۔ اس وقت تو صرف بیج بوئے جا رہے ہیں، فصل کاٹنے کا وقت ابھی باقی ہے۔

جب وہ وقت آئے گا، ہندوستان میں بھی وہی کچھ کاٹا جائے گا جو اسپین میں کاٹا گیا — اگر مسلمانوں نے فوری طور پر جوابی اقدامات نہ کیے۔


اسلام کی بقا عوام سے وابستہ ہے

اسلام کی حفاظت ہمیشہ عوام نے کی ہے، نہ کہ امیر طبقے نے۔ دولت مند مسلمانوں کا تناسب پانچ فیصد سے بھی کم ہے، جو استحصالی طبقے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ طبقہ اسلام کی بات تو کرتا ہے مگر مسلمانوں کو بھول چکا ہے۔

یاد رکھیں، مذہب اپنے ماننے والوں کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ ماننے والے مذہب کی حفاظت کرتے ہیں۔ہندوستان میں اسلام کو بچانے کے لیے، مسلمانوں کو خود اپنی حفاظت کرنی ہوگی۔

اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی نقطۂ نظر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ادارہ اس تحریر کو محض عوامی مفاد میں معلوماتی و فکری اظہار کے طور پر شائع کر رہا ہے تاکہ قارئین مختلف تاریخی و سماجی پہلوؤں پر غور کر سکیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button