بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل کا حماس کو الٹی میٹم، غزہ پر ممکنہ قبضے کا عندیہ

"اگر حماس نے شرائط قبول نہ کیں تو اسرائیل خود کارروائی کرے گا"

تل ابیب 23 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان بتسلئیل سموٹرچ نے حماس کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل جلد تنظیم کو ایک واضح الٹی میٹم دے گا، جس کے تحت اسے غزہ کی پٹی سے قیادت سمیت نکلنا، اسلحہ حوالہ کرنا اور اپنے عسکری ڈھانچے کو ختم کرنا ہوگا۔

اسرائیلی وزیر کے مطابق اگر حماس نے ان شرائط کو تسلیم نہ کیا تو اسرائیل کو براہِ راست کارروائی کا جواز حاصل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے اس ہدف سے پیچھے نہیں ہٹا کہ حماس کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

سموٹرچ نے اپنے بیان میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ حماس کے خاتمے میں کامیاب نہ ہوا تو اسرائیلی فوج کو بین الاقوامی سطح پر مزید حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج ممکنہ کارروائی کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو ملکی تاریخ کی نمایاں دائیں بازو کی حکومتوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس کے دور میں بستیوں کی تعمیر اور سکیورٹی پالیسیوں میں شدت دیکھی گئی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں جنگی صورتحال نے خطے کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان سے خطے میں نئی سفارتی اور عسکری کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ سے انخلا اور تعمیرِ نو جیسے معاملات زیرِ بحث ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے ممکنہ قبضے اور بستیوں کے قیام کا عندیہ عالمی برادری کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔

ادھر حماس کا موقف ہے کہ اسلحے اور انتظامی معاملات فلسطینیوں کے باہمی مذاکرات کے ذریعے طے ہونے چاہئیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی سے متعلق کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کرے گا۔

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال میں یہ تازہ بیان آئندہ دنوں کی سیاسی و عسکری پیش رفت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button