تہران میں بجلی معطل، اصفہان پر تباہ کن حملے، جنگ خطرناک رخ اختیار کر گئی
اصفہان میں گولہ بارود کے ایک بڑے ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا
تہران / واشنگٹن 31 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ اپنے بتیسویں روز میں داخل ہو گئی ہے اور خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران کے وسطی شہر اصفہان میں شدید فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ دارالحکومت تہران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کے بعد بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی خبریں ہیں۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کے روز اصفہان میں گولہ بارود کے ایک بڑے ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا، جہاں دو ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں رات کے اندھیرے میں ہونے والے زور دار دھماکے دکھائی دے رہے ہیں، جسے مبینہ طور پر اسی حملے سے جوڑا جا رہا ہے۔
ادھر ایران کے جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں، خصوصاً شیراز ایئرپورٹ کے اطراف اور اہواز میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران کے بعض حصوں میں متعدد دھماکوں کے بعد بجلی کا نظام متاثر ہوا، جبکہ حکام کی جانب سے بجلی کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کے لیے دفاعی نظام پوری طرح متحرک ہے۔ اطلاعات کے مطابق بیت المقدس کی فضاؤں میں کم از کم دس دھماکے سنے گئے، جہاں ایک میزائل کو فضا میں تباہ کر دیا گیا جبکہ دوسرا کھلے علاقے میں گرا۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے بھی اسرائیل کی جانب میزائل حملوں کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد خطے میں جنگی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ اصفہان ایران کا ایک اہم صنعتی اور دفاعی مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں فولاد سازی کے بڑے کارخانے، پیٹرو کیمیکل تنصیبات اور فضائی صنعتیں قائم ہیں، جبکہ یہ شہر اہم جوہری تنصیبات کے قریب بھی واقع ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک امریکی افواج نے ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ اسرائیلی حملوں کی تعداد بھی بڑی حد تک بڑھ چکی ہے۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی میں اسرائیل اور خلیجی خطے کی سمت ہزاروں میزائل اور ڈرون داغے گئے، جن میں سے بیشتر کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنایا۔
ادھر آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی قیادت کی جانب سے ایران کو سخت انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے کہ اگر اہم آبی راستہ نہ کھولا گیا تو مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور امن کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، اور اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات مزید وسیع ہو سکتے ہیں۔



