ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی نمائندے سے رابطے کا اعتراف، جاری مذاکرات کی تردید
ایران میں کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات کی خبریں بے بنیاد ہیں
تہران 01 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے ساتھ رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ رابطے کسی بھی قسم کے باضابطہ مذاکرات کا حصہ نہیں ہیں۔ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ وہ ماضی کی طرح براہ راست یا خطے کے ممالک کے ذریعے امریکی پیغامات وصول کرتے ہیں، تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات کی خبریں بے بنیاد ہیں اور تمام پیغامات وزارت خارجہ کے ذریعے ہی بھیجے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں جوہری معاہدہ طے پایا تھا، لیکن بعد میں امریکہ اس سے دستبردار ہوگیا، جس کے بعد اعتماد کی سطح "صفر” رہ گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو امریکہ کی نیت پر کوئی یقین نہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی امریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن سفارت کاری پر یقین نہیں رکھتا، کیونکہ مذاکرات کے دوران بھی ایران پر حملے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران تیار ہے، تاہم مستقبل میں کسی بھی جارحیت کو روکنے کے لیے ضمانتیں ضروری ہیں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے عباس عراقچی نے کہا کہ یہ ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں واقع ہے اور جنگ کے دوران اس کا اسٹریٹجک استعمال ایک معمول کی بات ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف دشمن ممالک کے جہازوں کے لیے یہ راستہ بند کیا جا سکتا ہے، جبکہ دیگر ممالک نے سیکیورٹی خدشات اور انشورنس اخراجات کے باعث خود اس راستے سے گریز کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کا فیصلہ ایران اور عمان مشترکہ طور پر کریں گے اور اسے ایک پرامن گزرگاہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی زمینی کارروائی کے خدشات پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے زمینی جنگ کی کوشش کی تو اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عباس عراقچی نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ کی جانب سے بھیجے گئے 15 نکاتی منصوبے پر ابھی تک ایران نے کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی اپنی جانب سے کوئی تجاویز پیش کی ہیں۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ واشنگٹن جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ چاہتا ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال بھی جاری رکھا جائے گا۔



