ایران جنگ کے مقاصد حاصل، اب مزید کیا باقی؟ آسٹریلوی وزیرِ اعظم
ایران جنگ: اہداف پورے، مگر انجام غیر واضح
کینبرا 02 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے ایک اہم اور معنی خیز سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس جنگ کے بنیادی مقاصد حاصل ہو چکے ہیں تو پھر یہ واضح نہیں کہ مزید کیا حاصل کرنا باقی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، انتھونی البانیز نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں نہ تو جنگ کے آخری مرحلے کی کوئی واضح تصویر سامنے آ رہی ہے اور نہ ہی اس کے حتمی انجام کے بارے میں کوئی یقین دہانی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس غیر یقینی کیفیت نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی کے آغاز پر جن اسٹریٹجک اہداف کا اعلان کیا گیا تھا، ان میں سے بیشتر اہداف حاصل کیے جا چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود جنگ کا تسلسل کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ جتنی طویل ہوتی جائے گی، اس کے اثرات عالمی معیشت پر اتنے ہی گہرے اور سنگین ہوتے جائیں گے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی سرگرمیوں میں سست روی اور سرمایہ کاری کے عدم استحکام جیسے عوامل پہلے ہی دنیا کو متاثر کر رہے ہیں۔
انتھونی البانیز نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں کمی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے، تاکہ خطے میں استحکام بحال ہو سکے اور عالمی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ جنگ کو طول دینے کے بجائے سفارتی راستوں کو اختیار کیا جائے اور دیرپا امن کی جانب پیش رفت کی جائے۔



