پانی دنیا کی عظیم نعمت ہے جس پہ ہر جاندار کا برابر کا حق ہے، جو اللہ سبحان تعالی کی طرف سے ہر ایک کے لئے برابر برسایا جاتا ہے۔ برستے ہوئے یہ کبھی یہ نہیں دیکھتا کہ یہ ہندو ہے یا مسلمان، سکھ ہے یا عیسائی، امیر ہے یا غریب، گنہگار ہے یا نیک، بلکہ پانی انسانوں کے علاوہ ہر جاندار کے حق میں آبِ حیات کے مانند ہے۔
یہ وہی پانی ہے جسے ثواب کی نیت سے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں اور پرندوں کو بھی پلایا جاتا ہے لیکن افسوس، چند کم ظرف اونچی ذات کہلانے والوں نے، جو انسانوں کے بھیس میں چھپے درندے ہیں، پانی کو بھی مذہب کا رنگ دے دیا۔ پانی کے نام پہ صدیوں سے انسانوں کا لہو بہایا گیا ہے۔
دلت طبقے کو چھوٹی ذات کا طعنہ دیتے ہوئے اُن کے ساتھ بھید بھاؤ کیا گیا، ان پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے گئے اور اُن سے اُن کے حقوق چھینے گئے۔ کہنے کو تو انہیں بھی ہندو ہی کہا جاتا ہے لیکن صرف نام کے ہندو، مندروں میں آج بھی اُن کے لئے داخلہ ممنوع ہے۔
پیاس کی شدت برداشت نہ کرتے ہوئے اگر بھول سے بھی کوئی دلت بچہ، خاتون یا بزرگ گاؤں کے کنویں یا تالاب کے قریب سے گزر جائے تو انہیں جانوروں کی طرح زدوکوب کیا جاتا ہے۔ آج یوگی کے جنگل راج اتر پردیش میں اسی طرح کا ایک معاملہ مسلم بچے کے ساتھ بھی پیش آیا ہے۔
اتر پردیش کے غازی آباد میں شرینی نندن یادو نامی شخص نے داسان دیوی مندر میں پانی پینے گئے ایک مسلم بچے کو بےرحمی سے مارا۔ اتنا ہی نہیں، اس درندے نے مارتے ہوئے ویڈیو بھی بنائی ہے جس میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح یادو نامی اس درندے نے پہلے تو بچے سے اُس کا نام پوچھا۔ بچے نے معصوم مسکراہٹ کے ساتھ اپنا نام آصف اور اپنے والد کا نام حبیب بتایا۔
نام سنتے ہی یادو کے اندر کا سنگھی شیطان جاگ گیا اور اس وحشی درندے نے اُس معصوم بچے، یعنی آصف، کو لات گھونسوں سے مارنا شروع کردیا۔ بچے کا ہاتھ مروڑتے ہوئے اسے زمین پر گرا کر جسم کے مخصوص حصے پہ لاتیں ماریں اور بچے کی ٹانگ کو اپنے پیروں تلے کچلتے ہوئے نظر آیا۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے پر کئی سماجی کارکنوں نے غم و غصے کا اظہار کیا۔
فی الحال غازی آباد پولیس نے اس واقعہ کے سلسلے میں یادو کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق یادو بہار کے بھاگلپور کا رہائشی ہے۔ سننے میں یہ بھی آرہا ہے کہ اس سے پہلے بھی یادو نے اسی طرح ایک اور بچے کے ساتھ مارپیٹ کی تھی۔
سمجھ نہیں آتا، یوریشیا سے آئے ان یونانی ڈی این اے والوں نے آخر یہ کیا حال کردیا ہے میرے بھارت کا۔ 2014 سے پہلے ہمارا بھارت ایسا تو ہرگز نہیں تھا۔ ارے، ہمارے نزدیک تو کبھی مندر مسجد کا بھید ہی نہیں تھا، بلکہ دونوں عبادت گاہیں قابل احترام ہوا کرتی تھیں۔
جہاں ہم دیوالی کی مٹھائی کھاتے، وہیں ہندو بھائی بہنوں کو عید کی سویاں عزیز تھیں۔ جہاں ہولی کے رنگوں میں ایک دوسرے کے لئے محبت تھی، آج وہیں ہولی کے رنگوں میں چھپے خوفناک چہروں پہ ہوس کا ڈیرا ہے۔ جو نہ ماں کو ماں سمجھتا ہے، نہ بہن کو بہن، نہ ہی ان میں انسانیت باقی ہے۔ اُس پیار، بھائی چارے کو ناجانے کس کی نظر لگ گئی۔
اگر ہم اپنی ہی بات کریں تو ہمارا سارا بچپن مندر کے آنگن ہی میں گزرا ہے۔ آج بھی ہمیں یاد ہے کہ کس طرح سارا دن ہم سہیلیاں مندر میں کھیلا کرتی تھیں اور تھک کر مندر میں لگے پیپل کے پیڑ کے نیچے سستانے بیٹھ جاتیں۔ اُس وقت نہ کوئی ہندو تھا نہ مسلمان، بلکہ ہم لوگ صرف معصوم بچے تھے، انسان تھے۔
کبھی کسی نے نہ ہم سے ہمارا مذہب پوچھا تھا، نہ ہی مندر میں کھیلنے پر اعتراض جتایا تھا، بلکہ ہم تو مندر کے پجاری کو انکل کہہ کر اُن سے لاڈ کرتے۔ جب مندر میں پرساد بانٹا جاتا تو پجاری انکل ہمیشہ ہمارے حصے کا پرساد رکھ کر ہمیں کھلایا کرتے اور ہمارے آنے پر خوشی کا اظہار کرتے۔
آج بھی وہ معصوم سہانے دن یاد ہیں۔ کچھ نہیں بھولے ہم، نہ پجاری انکل کو اور نہ ہی ہماری پیاری سہیلی پورنیما کو، جو اکثر ہمارے ساتھ ہمارے گھر جائے نماز بچھا کر نماز پڑھتی، ہمارے ساتھ ساتھ قرآن کی آیتیں دہراتی۔
رمضان کے روزے رکھتی اور ماہِ رمضان میں مسجد میں افطار کے وقت تقسیم کی جانے والی آش یعنی گنجی اور میوے کھانے کے لئے اصرار کر کے ہمیں ساتھ لے جاتی۔ کتنے پیارے تھے بچپن کے وہ دن، نہ لالچ نہ مطلب، بس بنداس ہر ڈر خوف سے بے پرواہ۔ ہماری صبح تو اذان کے ساتھ، مندر میں بجنے والے گائتری منتر کے ساتھ شروع ہوتی تھی۔
سوچتے ہیں تو آج بھی آنکھیں نم اور لبوں پر مسکراہٹ آجاتی ہے، جب ہم اپنی تتلی زبان سے گائتری منتر دہراتے تھے۔ یقین جانیں، ہمیں تو پورا منتر زبانی یاد ہوگیا تھا اور زندگی کے اس موڑ پر پہنچ کر آج بھی ہمیں اُس کا ایک ایک لفظ یاد ہے:
"اوم بھور بھووت سواہا
تتساوِتور ورینئیم
بھرگودیوسیہ دی مہی
دیو یونا پراچودیا”
اُس دور اور اس دور میں فرق بس اتنا سا ہے کہ آج ہماری زبان نہیں تتلاتی، بلکہ آج انسانوں کی سوچ تتلی ہوچکی ہے۔ اس کمینی سنگھی نفرت نے تعصب کا ایسا زہر گھول دیا ہے کہ آج کا انسان ذہنی اپاہج بن چکا ہے۔ انسان کم، جانور زیادہ ہوچکا ہے۔ ورنہ میرا بھارت کبھی ایسا نہ تھا۔
میرا بھارت تو پیار، محبت، بھائی چارگی اور عقیدتوں کا گہوارہ تھا۔ وہ منظر شاید آپ سبھی نے بھی دیکھے ہوں گے، جب ہماری ہندو ماں بہنیں اپنی گود میں بیمار بچوں کو لئے مسجدوں کے آگے، اپنے نمازی بھائیوں کی دعاؤں کی منتظر کھڑی رہتی تھیں۔
نمازی بھائی، نماز سے فارغ ہوتے ہی اپنی اُن بہنوں کے بیمار بچوں کو اپنی گود میں لے کر خوب دعائیں دیتے، اُن پر پھونک مارتے اور یہ اُن بھائی بہنوں کی محبت اور عقیدت ہی تھی کہ بیمار بچہ ایک پھونک کے ساتھ شفایاب ہوجاتا۔ لیکن آج یوریشیا والوں نے ہمارے ملک کی ایکتا اور اکھنڈتا کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔
آج جو بھی ہمیں پڑھ رہے ہیں، ہماری اپنے اُن تمام ہندو بھائی بہنوں سے گذارش ہے کہ ان مفاد پرست سیاستدانوں کی باتوں میں، ان کے بہکاوے میں ہرگز نہ آئیں۔ یہ ہماری اور آپ کی چتاؤں پر اپنی سیاسی روٹیاں سینک رہے ہیں۔
پانچ سالہ کرسی کی لالچ میں، مندر مسجد کو مدعی بنا کر ہندو مسلم کو آپس میں لڑوا رہے ہیں۔ جبکہ انہیں نہ مندر سے مطلب ہے، نہ ہی مسجد سے۔ ان کا نہ دھرم ہے، نہ ایمان۔
یہ تو بھوکے ہیں محض ستا کے، یہ پجاری ہیں نفرت کے، یہ سوداگر ہیں انسانی جانوں کے، بلکہ یہ تو نربھکشک ہیں، نربھکشک۔
اور ان نربھکشکوں سے ہم اور آپ کو مل کر اپنے پیارے بھارت کو بچانا ہے!



