سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

گولر کے حیرت انگیز طبی فوائد | گولر کن بیماریوں میں مفید ہے؟

حکیم عدنان حبان نوادر رحیمی شفاخانہ بنگلور

نام: اردو گولر، ہندی گولڑ، عربی جمیز، فارسی انجیر احمق، بنگلہ گلیر، سندھی گولاڑو، انگریزی Wild Figs ، سنسکرت اُدمبر، مراٹھی اُمبر، گجراتی اُمبرو، بنگالی یگ ڈومبر اور لاطینی میں فائیکس گلو میٹر مافا، رسموسا کہتے ہیں۔

شناخت: گولر انجیر کی مانند ایک روئیں دار پھل ہے، چیت سے اساڑھ تک پکتا ہے، شمالی ہندوستان میں گولر بکثرت پیدا ہوتا ہے، پکنے کے بعد پھل سرخ ہو جاتا ہے، کچا پھل زردی مائل سبز ہوتا ہے۔ گولر کا پھل انجیر کے مشابہ ہوتا ہے، اس کی شکل اور اندر کے تخم بھی انجیر کی ہی طرح ہوتے ہیں لیکن پکے ہوئے پھل میں سے مچھروں کے مشابہ بھنکے نکلتے ہیں، سبز رنگ کے گولر گچھوں کی شکل میں لگتے ہیں، لیکن پکنے سے سرخ رنگ کے اور مزہ میں شیریں ہو جاتے ہیں مگر انجیر جیسے خوش ذائقہ نہیں ہوتے۔

مزاج: گرم درجہ دوم، تر پہلے درجہ میں۔

مقدارِ خوراک: خام پھل 5 تا 7 گرام اور پتے 8 گرام۔

افعال واستعمال: گولر، پوست، پتے کچے ہونے کی وجہ سے قابض ہوتے ہیں، اسی لئے اسہال، خونی بواسیر اور ذیابیطس میں استعمال کئے جاتے ہیں، چند قدیم حکماء خونی بواسیر اور اسہال کے مریضوں کو اس کی ترکاری پکوا کر روٹی کے ہمراہ کھلواتے تھے۔

پختہ گولر ملین طبع اور منفث بلغم ہونے کی وجہ سے قبض، کھانسی اور دمہ میں نہایت مفید ہے، جذام کے مرض میں اس کے پھل اور پوست کو پانی میں پکا کر غسل کراتے ہیں، گولر کے جوان درخت کی جڑ میں گڑھا کھود کر اس کی کسی ایک جڑ کو کاٹ کر ایک گھڑے میں رکھنے سے پانی ٹپک پر گڑھے میں جمع ہو جاتا ہے، اس پانی کو بقدر نصف پاؤ صبح وشام پلانا ہندو ویدوں کے مطابق تب دق اور ذیابیطس میں قوت بخشتا ہے۔

فوائد: پکاگولر کھانے میں بہت میٹھا ہوتا ہے۔اس کا رس پینے سے گرمی کا جوش ختم ہوجاتا اور پیشاب کے مریض کو بہت فائدہ مند ہے۔ پکے گولر کا مربہ استعمال کرنے سے پیٹ کے سبھی امراض میں نافع ہے۔ خونی بواسیر، بھگندر،خونی قے کو آرام ملتا ہے۔ کچے پھلوں کا ساگ یا پکے پھلوں کا گودہ مستقل کھانا آنکھوں کے امراض، ذیابیطس و پیشاب کے متعلق تکالیف دور کر دیتا ہے۔ یہ ذیابیطس کا خاص علاج ہے۔ پیشاب کی جلن میں روزانہ دو،دوپکے پھل مریض کو کھلانے سے آرام آجاتا ہے،حاملہ کے دستوں میں پکے پھل شہد کے ساتھ استعمال کرانے سے دست رک جاتے ہیں۔لوگ پکے گولر میوہ کے طور پر کھاتے ہیں،اس سے بدن کو طاقت ملتی ہے۔

پیشاب کی نالی کے زخم: خشک گولر اور مصری ہموزن لے کر باریک سفوف بنالیں، اور چھان کر رکھیں، 6 سے 10 گرام صبح وشام ہمراہ تازہ دودھ سے استعمال کرائیں، بفضلہ تعالیٰ چند یوم میں ہی پیشاب کی نالی کے زخم مندمل ہو جائیں گے۔

تکسینِ پیاس: خشک گولر کو پتھرپرپانی کے ساتھ پیس کر چھان کر

پلانے سے کسی بھی طرح کی پیاس کا عارضہ دور ہوجاتا ہے۔گرمی کے دنوں میں پکے پھلوں کا شربت دِل کو فرحت بخشتا اور طاقت دیتا ہے۔

خون کا رسنا: جسم کے کسی بھی حصہ سے خون رس رہا ہو تو تین سے چار تازہ گولر کو چینی یا مصری کے ہمراہ استعمال کریں، اسی طرح خشک گولر یا گولر کے پتوں کا سفوف ایک چمچ صبح وشام ہمراہ آب تازہ لیں، پہلے دن سے ہی خون کا رسنا، ایام کی زیادتی، نکسیر کے پھوٹنے میں ان شاء اللہ فائدہ نظر آئے گا۔

سیلان: خشک گولر کا سفوف 5 سے 10 گرام کی مقدار میں صبح و شام تازہ پانی کے ہمراہ استعمال کریں، سیلان الرحم اور لیکوریا میں مفید ہے۔ ایام کی زیادتی میں بھی اس کا استعمال نافع ہے۔

کھانسی: گولر کے تازہ پھل یا اُس کے پتوں وشاخوں کا جوشاندہ بنا کر بطریق معروف لعوق تیار کرکے کھانسی، دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض میں صبح دوپہر وشام چٹاتے ہیں، جس سے ـفوری افاقہ ہوتا ہے۔

شربت سعال: گولر کے پتے وشاخوں کو جوشاندہ بناکر معروف طریقہ پر تین گنا شکر کے ہمراہ قوام تیار کریں، صبح دوپہر وشام 20-20 گرام ہمراہ نیم گرم آب استعمال کرائیں، پرانی سے پرانی کھانسی چند دنوں میں رفع ہو جائے گی۔

پیشاب کی جلن: مذکورہ شربت مستقل استعمال کرنے سے پیشاب کی پرانی سے پرانی جلن اور سوزش چند ہفتوں میں رفع ہو جاتی ہے۔

ذیابیطس: گولر میں بلڈ شوگر کم کرنے کی خوصیات پائی جاتی ہیں، خشک گولر، جامن کی گٹھلی اور میتھی دانہ ہموزن لے کر سفوف تیار کرلیں، صبح وشام ہمراہ تازہ پانی ایک ایک چمچ استعمال کرائیں، ذیابیطس کی زیادتی اور پیشاب کی کثرت میں مفید ہے۔

مولد منی: گولر کی شاخوں کا جوشاندہ بنا کر شہد یا تازہ کھجور کے ہمراہ استعمال کرنا مولد منی ومغلظ منی ہے۔

جریان: 5 تا 7 گرام گولر کے خشک پھل کا سفوف مصری کے ساتھ ملاکر کھانے سے مرض جریان میں نافع ہے۔

پیٹ درد: جن لوگوں کو گیس غبار اور اپھارہ کی شکایت ہو اور اس کی وجہ سے بار بار پیٹ درد ہوتا رہتا ہو ان کے لئے گولر کا پھل اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، تازہ گولر کے دو سے تین دانے اچھی طرح چبا کر کھلائیں، ریاحی وغیر ریاحی پیٹ درد کو نافع ہے۔ لیکن زیادہ مقدار میں استعمال مناسب نہیں۔

سفید داغ: گولر کی شاخوں کا تازہ رس لے کر پرانے گڑ کے ہمراہ کھانے سے اسہال ہوتے ہیں جس سے سفید داغ مٹنے لگتے ہیں۔اسی طرح گولر کی تازہ شاخ توڑ کر اُس سے نکلنے والے چپچپے پانی کو سفید داغوں پر لگانے سے پرانے سے پرانہ داغ ختم ہو جاتے ہیں۔

چوٹ یا زخم: گولر میں اللہ تعالیٰ نے زخموں کو مندمل کرنے کی اہم صفت رکھی ہے، گولر کی شاخ توڑ کر اُس کے دودھ کو روئی کے ہمراہ زخموں پر لگانے سے زخم مندمل ہو جاتے ہیں۔

خونی بواسیر: گولر کی سبزی روٹی کے ساتھ کچھ دنوں تک کھانے سے خونی بواسیر ٹھیک ہوجاتی ہے۔اسی طرح کچے خشک پھل کا سفوف صبح وشام ایک ایک چمچ استعمال کرنے سے بھی خونی بواسیر میں نافع ہے۔

قرص سعال: گولر کے تازہ پھل کا رس نکال کر ملہیٹی چھلی ہوئی کے سفوف میں کھرل کریں، اگر تازہ پھلوں کا رس دستیاب نہ ہو تو گولر کے پتوں کا رس استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جب اچھی طرح کھرل ہو جائے تو چنے کے بقدر گولیاں بنالیں، دو دو گولیاں منھ میں رکھ کر چوستے رہیں۔ کھانسی، گلے کی خراش، موسمی اثرات سے فوری افاقہ ہوتا ہے۔

بواسیر خونی: گولر کے نرم پتے 20 گرام، باریک پیس کر گائے کے دودھ کا دہی250 گرام اور تھورا سا سیندھا نمک ملاکر استعمال کریں۔ آرام آجائے گا۔

سنگرہنی: گولر کے پتوں کا رس 3گرام، کالی مرچ2 عدد،تھوڑے سے چاول کے دھوون کے ساتھ چٹنی جیسا پیس کراس میں کالا نمک ملاکراور چھان کر صبح و شام دیں، سنگرہنی میں نہایت مفید ہے۔

لیکوریا: گولر کے پھل کا تازہ رس نکال کر مصری کے ہمراہ ملا کر صبح وشام پینا پرانے سے پرانے لیکوریا کے لئے نہایت فائدہ مند ہے۔

ٹی بی: گولر کے درخت کی چھال اتار کر خشک کرلیں اور باریک سفوف بنا کر رکھیں، صبح وشام 5-5 گرام سفوف بکری کے دودھ کے ساتھ استعمال کرائیں۔ یا چھال کو پکا کر جوشاندہ بنالیں اور شہد ملا کر صبح وشام پاؤ پاؤ کپ نیم گرم پلائیں، ٹی بی کے مریضوں کے لئے بے حد مفید ہے۔

کینسر: گولر میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کافر مقدار میں پائی جاتی ہیں، جس کی بدولت اگر کینسر کے مریض کو بطورِ دوا تازہ پھل مستقل کھلایا جائے تو یہ کینسر کے خلیات کو تباہ کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

یرقان: گولر کے تازہ پتوں کا جوشاندہ پابندی کے ساتھ استعمال کرنا مرض یرقان کو رفع کر دیتا ہے۔

بے ترتیب دھڑکن: میگنیشیم دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کو اعتدال پر لانے والا ایک اہم جزو ہے، جو گولر کے پھل میں بکثرت پایا جاتا ہے، جن لوگوں کی دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوں اور حول وحشت گھبراہٹ طاری رہتی ہو، انہیں گولر بطورِ دوا استعمال کرنا چاہئے۔

قوتِ مدافعت: گولر میں کاپر کافی مقدار میں پایا جاتا ہے، جو خون کی کمی سے بچاتا ہے، یہ ہمارے جسم میں انزیمیٹک عمل کے لئے نہایت ضروری ہے جو اینڈوتھیلیل گروتھ یا ٹشوز کی شفایابی کے عمل میں مددگار ہوتا ہے، اسی لئے گولر کا مستقل استعمال قوتِ مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button