بین الاقوامی خبریںسرورق

روس یوکرین جنگ: روسی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں 1.8 لاکھ کمی، رپورٹ میں انکشاف

روس میں یوکرین جنگ کے بعد قیدیوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے

ماسکو 14 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) یوکرین جنگ کے دوران روس کی جانب سے قیدیوں کی فوجی بھرتی کے بعد ملک کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ روسی جیل سروس کے سربراہ آرکاڈی گوسٹیف نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران روس میں قیدیوں کی تعداد میں ایک لاکھ اسی ہزار سے زیادہ کی کمی آئی ہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق روس نے جنگ کے دوران ہزاروں قیدیوں کو یوکرین کے محاذ پر بھیجا۔ ان قیدیوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ زندہ واپس آئے تو ان کی سزائیں معاف کر دی جائیں گی۔ روس میں سوویت دور سے جیلوں کا ایک وسیع نظام موجود ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ قیدی رکھنے والے ممالک میں اس کا شمار ہوتا رہا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی TASS کے مطابق آرکاڈی گوسٹیف نے کہا کہ 2021 کے اختتام پر روسی جیلوں میں تقریباً 4 لاکھ 65 ہزار قیدی تھے، جبکہ اب یہ تعداد گھٹ کر 2 لاکھ 82 ہزار رہ گئی ہے۔ اس طرح قیدیوں کی تعداد میں تقریباً 40 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 85 ہزار افراد زیر سماعت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوجی بھرتی مہم کے علاوہ سزا مکمل ہونے اور مختلف رعایتوں کے باعث بھی قیدیوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔ تاہم یوکرین کے محاذ سے واپس آنے والے بعض سابق قیدیوں کی وجہ سے جرائم اور سماجی کشیدگی میں اضافے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق روسی جیلوں میں قیدیوں سے مختلف صنعتی کام بھی لیے جا رہے ہیں۔ گوسٹیف نے بتایا کہ ہزاروں قیدی فوجی ضروریات کے لیے قائم پیداواری مراکز میں کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق رواں برس فوجی مقاصد کے لیے تقریباً 5.5 بلین روبل مالیت کا سامان تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ جیلوں میں مجموعی صنعتی پیداوار کا حجم 47 بلین روبل تک پہنچ چکا ہے۔

روس کو جنگ کے دوران افرادی قوت کی شدید قلت کا سامنا بھی ہے۔ لاکھوں افراد فوجی محاذ پر تعینات ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ جبری متحرک کیے جانے کے خوف سے ملک چھوڑ چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button