مغربی بنگال کے تمام مدارس میں ’’وندے ماترم‘‘ لازمی
بی جے پی حکومت کی جانب سے مغربی بنگال کے تمام مدارس میں ’’وندے ماترم‘‘ لازمی قرار
کولکاتا 21 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مغربی بنگال حکومت نے ریاست کی تمام مدارس میں اسمبلی دعا کے دوران ’’وندے ماترم‘‘ پڑھنے کو فوری طور پر لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں مدرسہ ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے باضابطہ حکم نامہ جاری کیا گیا۔
حکم نامے کے مطابق یہ ہدایت سرکاری ماڈل مدارس، سرکاری امداد یافتہ مدارس، منظور شدہ شیشو شکشا کیندر، مادھیامک شکشا کیندر اور اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم محکمہ کے تحت چلنے والے تسلیم شدہ غیر امدادی مدارس پر بھی نافذ ہوگی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اسمبلی دعا کے دوران، کلاسوں کے آغاز سے قبل ’’وندے ماترم‘‘ پڑھنا لازمی ہوگا۔ محکمہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ اس فیصلے کا مقصد تمام تعلیمی اداروں میں اسمبلی کے طریقۂ کار میں یکسانیت پیدا کرنا ہے۔
عہدیدار کے مطابق حکم نامہ مجاز اتھارٹی کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے اور اس پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹس، اسکول انسپکٹرس، مغربی بنگال مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اور دیگر اعلیٰ حکام کو بھی ہدایات روانہ کردی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ریاستی حکومت نے تمام سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں میں بھی صبح کی اسمبلی کے دوران ’’وندے ماترم‘‘ کی گائیکی لازمی قرار دی تھی۔ ہدایت میں کہا گیا تھا کہ ہر طالب علم کو اسکول کے آغاز پر قومی نغمہ پڑھنے میں حصہ لینا ہوگا جبکہ اداروں کے سربراہان کو سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی تھی۔
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مرکزی حکومت قومی علامات کے احترام سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنانے پر غور کر رہی ہے۔ مجوزہ ترمیم کے تحت ’’وندے ماترم‘‘ کی گائیکی میں رکاوٹ ڈالنے کو قابل سزا جرم قرار دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔



