تلنگانہ کی خبریںسرورق

تلنگانہ SIR 2026: ووٹر لسٹ سروے میں کئی خامیاں، 2002 کی میاپنگ سے ووٹرس پریشان، 24 جولائی آخری تاریخ

2002 کی ووٹر لسٹ سے میاپنگ نہ ہونے پر 12 دستاویزات میں سے ایک جمع کرانا لازمی، بی ایل اوز کی مبینہ لاپرواہی اور عدم تعاون پر شہریوں میں تشویش

حیدرآباد: تلنگانہ میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) 2026 کے دوران ووٹر لسٹوں کی جامع نظرثانی کا عمل زمینی سطح پر کئی مسائل سے دوچار نظر آرہا ہے۔ 2002 کی ووٹر لسٹ کی بنیاد پر کی جانے والی میاپنگ نے ہزاروں رائے دہندگان کے لیے نئی مشکلات پیدا کردی ہیں، جبکہ بی ایل اوز (بوتھ لیول آفیسرز) کی مبینہ لاپرواہی اور فارموں کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں میں تشویش بڑھتی جارہی ہے۔

الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار کے مطابق جن ووٹرس کی 2026 کی ووٹر لسٹ کو 2002 کی فہرست سے کامیابی کے ساتھ میاپ نہیں کیا جاسکا، انہیں انیومیریشن فارم بھرنا ہوگا۔ تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ 24 سال پرانی ووٹر لسٹ میں اپنے یا اپنے والدین کے نام، پولنگ اسٹیشن اور اسمبلی حلقے کی تفصیلات تلاش کرنا انتہائی دشوار ثابت ہورہا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو ملازمت، کاروبار یا کرایہ کے مکانات کے باعث کئی بار رہائش تبدیل کرچکے ہیں۔

شہری علاقوں، خصوصاً حیدرآباد، رنگاریڈی اور میڑچل اضلاع میں متعدد ووٹرس نے شکایت کی ہے کہ انہیں اب تک انیومیریشن فارم فراہم نہیں کیے گئے، جبکہ متعلقہ بی ایل اوز سے رابطہ کرنا بھی مشکل ثابت ہورہا ہے۔ دوسری جانب انتخابی حکام کا دعویٰ ہے کہ تقریباً تمام فارم تقسیم کیے جاچکے ہیں۔

کئی ووٹرس نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ بعض مقامات پر بی ایل اوز فارم نہ بھرنے یا مطلوبہ معلومات فراہم نہ کرنے کی صورت میں ووٹ منسوخ ہونے یا شہریت پر سوال اٹھنے جیسی باتیں کہہ رہے ہیں۔ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم ایسے الزامات کے بعد شہریوں میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔

ادھر ووٹرس کی مشکلات کے پیش نظر انتخابی حکام نے وضاحت کی ہے کہ اگر 2002 کی میاپنگ مکمل نہ بھی ہو تو انیومیریشن فارم جمع کرایا جاسکتا ہے۔ ایسے ووٹرس کو الیکشن کمیشن کی تجویز کردہ 12 دستاویزات میں سے کوئی ایک دستاویز شناخت اور اہلیت کے ثبوت کے طور پر جمع کرانی ہوگی۔ دستاویزات کی جانچ کے بعد ان کا نام حتمی ووٹر لسٹ میں برقرار رکھنے یا شامل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق میڑچل ضلع میں اب تک تقریباً 15 ہزار ووٹرس دوسری جگہ منتقل ہوچکے ہیں، جبکہ ہزاروں اموات بھی ریکارڈ پر آئی ہیں، جس کی وجہ سے ووٹر لسٹوں کی نظرثانی مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔

انتخابی حکام نے ووٹرس سے اپیل کی ہے کہ وہ 24 جولائی سے قبل اپنے انیومیریشن فارم لازماً جمع کرائیں اور اگر ممکن ہو تو 2002 کی میاپنگ بھی مکمل کروالیں تاکہ بعد میں کسی قسم کی قانونی یا انتظامی پیچیدگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button