
جنسی ہراسانی کے الزام میں دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر کی جبری سبکدوشی
پی ایچ ڈی اسکالر کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کی شکایت کی ICC نے تحقیقات کیں، ایگزیکٹو کونسل نے رپورٹ اور سزا کی سفارش منظور کرلی۔
نئی دہلی یکم/اگسٹ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دہلی یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات سے وابستہ ایک فیکلٹی ممبر کو جنسی ہراسانی کے معاملے میں جبری طور پر سبکدوش کردیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل (EC) نے داخلی شکایتی کمیٹی (ICC) کی سفارشات کو منظور کرتے ہوئے یہ کارروائی کی۔
یونیورسٹی حکام کے مطابق یہ فیصلہ جمعرات کو منعقدہ ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔ ایک یونیورسٹی عہدیدار نے بتایا کہ ICC کی سفارش پر پروفیسر کے لیے جبری سبکدوشی (Compulsory Retirement) کی سزا تجویز کی گئی تھی، جسے ایگزیکٹو کونسل نے منظور کرلیا۔
حکام کے مطابق اصل شکایت ایک پی ایچ ڈی اسکالر کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے سے متعلق تھی۔ یہ شکایت ایک سال سے زیادہ پرانی تھی، تاہم اسے رواں سال باقاعدہ طور پر زیرِ غور لایا گیا۔ ICC نے معاملے کی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اپنی رپورٹ ایگزیکٹو کونسل کو پیش کی، جسے کونسل نے قبول کرلیا۔
یونیورسٹی عہدیدار نے کہا کہ دہلی یونیورسٹی جنسی ہراسانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ یونیورسٹی طلبہ اور اسٹاف کے لیے محفوظ اور پُرسکون ماحول یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔
جنسی ہراسانی سے متعلق شکایات کی تحقیقات اور مناسب کارروائی کی سفارش کرنے کے لیے داخلی شکایتی کمیٹیوں کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کے ضوابط اور Sexual Harassment of Women at Workplace (Prevention, Prohibition and Redressal) Act, 2013 کے تحت اختیارات حاصل ہیں۔
دہلی یونیورسٹی میں یہ اس نوعیت کا دوسرا معاملہ بتایا گیا ہے جس میں کسی فیکلٹی ممبر کو جبری سبکدوشی کی سزا دی گئی ہے۔
اس سے قبل بھارتی کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر امیت کمار کے خلاف طلبہ کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات سامنے آئے تھے۔ 2018 میں ان پر طالبات کو مبینہ طور پر قابل اعتراض اور جنسی نوعیت کے پیغامات بھیجنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
معاملے کی تحقیقات کے بعد داخلی شکایتی کمیٹی نے الزامات کو قابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کی سفارش کی تھی۔ بعد ازاں کالج کی گورننگ باڈی نے جبری سبکدوشی کی سفارش کی، جسے دہلی یونیورسٹی نے منظور کرلیا۔
ڈاکٹر امیت کمار نے اس کارروائی کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے جولائی 2025 میں ان کی درخواست خارج کرتے ہوئے ان کی جبری سبکدوشی کے خلاف چیلنج کو مسترد کردیا تھا۔
موجودہ معاملے میں یونیورسٹی حکام نے پروفیسر کا نام ظاہر نہیں کیا ہے، اس لیے نام شامل نہیں کیا گیا ہے۔



